غالب نے کہا تھا، 
"کوئی امید بر نہیں آتی۔۔۔ 
کوئی صورت نظر نہیں آتی
غالب کو تو نامعلوم کیا مایوسی تھی لیکن ملکی حالات نے ایک عام آدمی کو شدید مایوسی کے عالم میں گرفتار کر دیا ہے اور اس قید سے رہائی کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ یہ مایوسی اور ناامیدی یونہی نہیں ہے، بلکہ اسکو پنپنے میں طویل عرصہ لگا ہے۔ بہت سارے علل و اسباب اس مایوسی کے پیچھے کارفرما ہیں۔ اس مایوسی کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب ہمارے حکمرانوں کا عوام سے جھوٹ بولنا اور دھوکہ دہی کی سیاست کرنا ہے۔ پے در پے بلکہ صرف جھوٹ کا سہارا لیکر عوام کے جذبات اور احساسات سے کھیلنا ہر دور کے حکمرانوں کا واحد طرزِ حکمرانی رہا ہے۔ اسی جھوٹ اور دھوکے کے بل پر ہم سے حقائق چھپائے گئے اور اچھے مستقبل کی جھوٹی امید کے سہارے پر ہم سے ہمارا رہا سہا حال بھی بدحال کر دیا گیا اور ہمیں یہی کہا گیا کہ 
"امیدِ صبحِ جمال رکھنا 
خیال رکھنا۔۔۔۔۔

لیکن اب ہر وہ ذی شعور پاکستانی اس وقت مایوسی کا شکار ہے، جس نے آنکھیں کھول کر اپنے سامنے اور گرد و پیش کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ میرے خیال میں اب وہ دور گزر چکا ہے، جب آنکھوں میں دھول جھونک کر لوگوں کو بیوقوف بنانا آسان تھا۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں جھوٹ و سچ اور اصل و سراب کے فرق میں تمیز کرنا مشکل نہیں۔ بس ذرا آنکھوں اور کانوں کی ہوشیاری اور طبیعت میں اعتدال کی ضرورت ہے۔ اعتدال اس لئے کہ عموماً ہم جس شخص، پارٹی یا مسلک سے وابستگی رکھتے ہیں، اسکا برا بھی اچھا محسوس کرتے ہیں اور جس سے مخالفت ہو، وہ ٹھیک بھی ہو تو ہماری نظر میں مجرم ہی رہتا ہے۔ 

تو بات ہو رہی تھی شعور کی۔ جس طرح ناامیدی بھی یونہی نہیں ہوتی، اسی طرح شعور بھی یوں ہی نہیں آجاتا۔ یہ بھی ایک طویل سفر کے نتیجے میں عطا ہوتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی خواہش اور کوشش تو عوام کو ہمیشہ بے شعور رکھنے ہی کی ہوتی ہے لیکن یہاں ان سے یہ غلطی ہوئی کہ مسلسل اور مستقلاً جھوٹ اور فریب کو ہی انہوں نے اپنا وطیرہ بنا لیا۔ یہ شعور ہی کا نتیجہ ہے جو اب ہم مایوسی کے بادلوں کو اپنے سروں پر منڈلاتا دیکھ رہے ہیں۔ اگر شعور نہ ہوتا تو اب بھی شاطروں کی سجائی جنت کو احمقوں کی طرح دیکھ دیکھ کر قیامت کا انتظار کر رہے ہوتے۔ یہ اس شعور ہی کا نتیجہ ہے جو ہمیں سمجھ آگئی ہے کہ دراصل قیامت ہم پر ٹوٹ چکی ہے اور ہم جنت میں جانے کی بجائے انکے دہکائے جہنم میں جل رہے ہیں۔ حکمرانوں کی بنائی بہلاوے اور امیدِ صبح ِ جمال کی خشک اور بے ذائقہ چسنیاں اب کام نہیں آرہیں۔ 

پتہ نہیں کب سے ہم اپنا خون گھر میں گھسے دشمن کو پلا رہے ہیں اور ہم پر حکمرانی چلانے والوں کا ایک ہی راگ ہے کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں، کوئی ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرآت نہیں کرسکتا۔ کہتے تو وہ بھی ٹھیک ہیں۔ انکے قلعوں کی سرحدیں بالکل محفوظ ہیں اور میلی عوام کی میلی آنکھ انکی طرف اٹھنے کی جرآت نہیں کرسکتی۔ سرحد غیر محفوظ ہے تو اس بدنصیب ملک کی، کہ جس کو آپکے اور میرے اجداد نے اپنا خون دے کر حاصل کیا تھا۔ آج ان نام نہاد محفوظ سرحدوں سے جس درندے کا جی چاہتا ہے، در آکر میرے بھائی، بہنوں، بزرگوں اور بچوں کا بے گناہ خون پی کر چلتا بنتا ہے۔ یونہی نہیں، علی الاعلان۔۔۔ اپنی شناخت کی تشہیر کرکے۔۔۔ اپنے نام اور پتے کے ساتھ۔۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اب میں فلاں جگہ فلاں بچوں کا خون پینے جارہا ہوں۔۔۔کر لو جو کرنا ہے اور ہماری گردنوں پر چڑھے حکمران۔۔۔۔ کبھی اے بی سی، کبھی اے پی سی اور کبھی فوجی عدالتیں؟؟؟ 

شعور تو یہ کہتا ہے کہ سارے جہان میں فوج کا کام جنگ لڑنا ہوتا ہے۔ اگر فوج نے عدالتیں ہی لگانی ہیں تو ان کالے کوٹوں اور سفید جھالروں والی فوج چہ معنی دارد؟ ساری دنیا کا ایک متفقہ اصول ہے کہ فوج دشمن کا قلعہ قمع کرتی ہے اور ایسے کرتی ہے کہ صرف دشمن ہی کو اسکی ضرب کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن یہاں کا یہ دستور بھی نرالا ہے کہ فوج کو عدالتی کارروائیوں کے جھنجھٹ میں الجھا کر جنگ کی تمام حکمتِ عملی میڈیا کے توسط سے دشمن کو اچھی طرح سے سمجھائی جاتی ہے، تاکہ میلی عوام کی میلی آنکھیں نکالنے میں اسے کوئی دشواری نہ ہو۔ جن خونخوار مجرموں کو بہت پہلے واصلِ جہنم کر دیا جانا چاہئے تھا، انہیں قید خانوں میں پال پوس کر اور توانا کیا گیا۔ دو چار کو پھانسی پر لٹکا کر میڈیا کے ذریعے تشہیر کی گئی۔ کیوں؟ اس لئے کہ آزاد پھرنے والے دہشت گرد پھر میرے معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلیں؟ 

معافی نامہ؟ کیسا معافی نامہ؟ ہاں ٹھیک ہے۔ ہر شریف اپنے بچوں کی زندگی اور اپنی ناموس کی حفاظت چاہتا ہے۔ اسکا سادہ سا حل سترہ سال بعد سزا سے تیس سیکنڈ قبل معافی نامے پر دستخط کرنا ہی رہ جاتا ہے۔ ورنہ۔۔۔۔ ورنہ کیا؟ معافی نامے کے بعد بھی نہ بچوں کی زندگیاں محفوظ اور نہ ہی بیٹیوں کی عزت۔۔۔۔ ہاں! میں مایوس ہوں۔ اپنے حکمرانوں کی عیاری اور جھوٹ نے مجھے مایوسی کی دلدل میں پھینکا ہے۔ شعور یہ بتا رہا ہے کہ انکی عوام دشمن پالیسیوں سے دہشت گردوں کو مزید کھل کر کھیلنے کا موقع ملے گا۔ عدالتوں، سزاؤں اور معافی ناموں کا ٹوپی ڈرامہ بھی جاری رہے گا۔ دوسری طرف پشاور، کوئٹہ، ژوب، کراچی، راولپنڈی، بابوسر، چلاس، گلگت، ڈی آئی خان اور لاہور جیسے دہشت گردی کے سفاکانہ کھیل بھی جاری رہیں گے۔ جیلیں ٹوٹتی رہیں گی اور دہشت گرد اپنے نام و مقام کی تشہیر کے ساتھ اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ 

لیکن میں مایوس بالکل بھی نہیں اس خدا سے۔۔۔۔جس خدا نے مجھے شعور دیا ہے کہ میں ایمان رکھوں کہ مایوسی گناہِ عظیم ہے۔ میں خدا کی بارگاہ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے میری ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہے۔ عیار حکمرانوں کی صورت میں طویل عرصے سے گردن پر پڑا یہ امتحان سہی۔ اسی نے بتلایا اور شعور دیا کہ بے شک اندھیرے کے بعد اجالا، کرب کے بعد راحت اور مشکل کے بعد آسانی ہے۔ یہ مکر کرنے والے جتنا مکر کر لیں۔ واللہ خیر الماکرین۔ وہ زیادہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ آج میرے دشمن حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے دندناتے پھر رہے ہیں تو کیا غم؟ کل یہی ہاتھ پاؤں اور آنکھیں ان دہشت گردوں کے جسموں کا حصہ نہ رہیں گے اور یہ ان اعضاء کے بغیر اپنے اصل مقام یعنی نالیوں میں پڑے ہوں گے۔ اپنے پسماندگان کے لئے نشانِ عبرت! خدا کی رحمت نقیناً نزدیک ترین ہے۔ ہم سب ان نام نہاد پالیسی سازوں سے مایوس اور مبرا ہیں۔۔۔۔ اور خدا کی جانب۔۔۔ امیدِ صبحِ جمال۔۔۔۔ انشاءاللہ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

 
Top