شیعہ آن لائن: پاراچنار:
۱۵ ماہ قبل پاراچنار کے اسیر کیے گئے عمائدین کو رہا کردیا گیا۔ رہا کیے گئے بعض
عمائدین شیخ نواز عرفانی کے مزار جاکر پرسہ دے دیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال
انتخابات کے دوران پاراچنار کے مومنین آپس میں فرقہ واریت اور اندرونی نفاق کے
شکار ہوئے۔ انتخابات میں شیخ نواز عرفانی نے ایک نمائندے ساجد حسین طوری کی حمایت
میں اعلان کیا۔ جس کی وجہ سے ساجد حسین طوری کے مدمقابل نمائندہ سید قیصر حسین کے
افراد ناراض ہوکر مرکزی انجمن سے علیحدگی اختیار کی اور نیا قومی انجمن بنالیا۔
انتخابات میں ساجد حسین طوری جس کو شیخ نواز عرفانی کی پذیرائی حاصل تھی، کامیاب
ہوگئے۔ اور انکے مدمقابل فریق کے الزامات کی وجہ سے شیخ نواز عرفانی کو ایجنسی بدر
کیا۔ اور مرکز میں تمام املاک کو تحسیب کا سلسلہ حکومت کے ذریعے چاہتے تھے۔ اس
دوران مرکز کے املاک میں پشاور میں پاک ہوٹل اور رئیسان میں علمدار ہوٹل کو بند
کردیاگیا۔ جس کی وجہ سے آپس میں کافی اختلافات پیدا ہوگئے۔ ان اختلافات کو دور
کرنے کیلئے سارے قوم کے عمائدین کے مشورے سے حکومت کو داخل ہونا پڑا۔ حکومت نے اس
دوران کافی تعداد میں عمائدین پاراچنار کو گرفتار کیا۔ جس میں انجمن حسینیہ کے
اراکین اور دوسرے فریق قومی انجمن کے اراکین کو جیل بھجوا دیے گئے۔ اور اس دوران
پاراچنار کے مرکزی مسجد کے پیش امام شیخ نواز عرفانی کی شہادت اسلام آباد میں
ہوا۔ جس کی وجہ پاراچنار میں فرقہ واریت اور اندرونی انتشار کی فضا اور گرم ہوئی۔
تاہم حکومت کی مسلسل کوششوں سے اس پر قابو پالیاگیا۔
اس دوران پاراچنار کے
عمائدین کو ۱۵ ماہ تک قیدی رکھا گیا۔ جس کو گزشتہ روز رہا کیا گیا۔ اور اختلافات
کے دوران مرکز کے جو املاک پر پابندی لگادی گئی تھی، اس کو ہٹا دی گئی۔ جس میں
پشاور پاک ہوٹل اور ئیسان ہوٹل شامل ہے۔ قیدی عمائدین کی رہائی کے دوران پاراچنار
شہر میں ہر قسم کی ٹریفیک پر پابندی لگادی گئی تھی۔ تمام قیدیوں کو پی اے کرم آفس
میں لاکر وہاں سے سب کو رہا کردیاگیا۔ اور مرکز کے رہا کیے گئے عمائدین پی اے کرم
سے سیدھا شہید شیخ نواز عرفانی کے مزار جاکر وہاں خراج تعزیت پیش کی۔
تصاویر:






ایک تبصرہ شائع کریں