شیعہ آن لائن(این زیڈ علی): گزشتہ روز اہل تشیع کا کھل کر دشمن جیوز نیوز پر طلعت کے نیاپاکستان کے نام پروگرام کو مشہور کرانے کے خاطر پاکستان کی قانون کے تحت کالعدم لشکر جھنگوی کا سربراہ احمد لودھیانوی کو بیٹھاکر کھلے عام اہل تشیع پر کفر کا فتوی اور پھر قانون پاکستان کی پاسداری سے واضح طورپر منخرف ہونے کا اعلان کرتاہے۔ کوئی حکومتی ادارے یا قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے تحت طلعت و لودھیانوی سمیت جیوز کے خلاف کب ہوش میں آئیں گے۔
پروگرام ہی میں بزبان لودھیانوی شیعہ سنی کا مسئلہ واضح ہوا ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت کون پھیلارہاہے، شیعیوں پر کفر کا فتویٰ کون لگا رہاہے اور پھر شیعیوں کے خلاف برملا کون شیعہ کافر کے نعرے لگارہے ہیں؟؟ پاکستان میں جاری فرقہ واریت اور دہشت گردی کا سرغنہ کون ہے؟
پہلے تو لودھیانوی کھلے عام کہتاہے کہ وہ اپنے مفتیوں کے حکم پر عمل پیرا ہوکر شیعیوں کو کافر کہتاہے اور اس وجہ سے پاکستان میں فرقہ واریت کی فضا گرم کردیتے ہیں۔ اور اس فرقہ واریت کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی فضا گرم کرنے والے کا اندازہ قارئین خود لگالیں۔
خیر یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، کہ پاکستان میں شیعیوں کو روزانہ دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان کی اکثریت شیعیوں کے خلاف ناروا نعرے لگاتے ہیں۔ یا کوئی مفتی شیعیوں کے خلاف اعلان جنگ،  قتل کے فتوے لگاتا ہے۔ بلکہ یہ ایک دیرینہ بات ہے۔ یہاں ہم اہل سنت کا شیعیوں کے خلاف نفرت اور پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانہ جوکہ اس کا سرغنہ واضح طورپر معلوم ہواہے، کو پاوں تلے دبتے ہیں۔ اس کا مزید ذکر نہیں کرتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ جیونیوز پر طلعت کے سامنے قانون پاکستان کے تحت کالعدم لشکرجھنگوی کا سربراہ لودھیانوی برملا اظہار کرتاہے کہ ہم نہ پاکستان کے قانون کا پاسداری کرنے والے ہیں اور نہ ہی اسے مانتے ہیں۔ ہم آزادی سے جو کرنا چاہے کریں گے۔ واضح رہے کہ کئی مدت پہلے اسی جیونیو پر حامد میر نے پاکستان کے اینٹیلجنس اور فوجی ادارے کے خلاف اظہار خیال کیا تھا، اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب سے جیونیوز کو ایک چانس دینے کے خاطر معمولی سزادی گئی۔ یا سزا بھی نہیں کہہ سکتے ہیں۔ تو آج جیونیوز پھر آزادی کے ساتھ پاکستان کی قانون نے جس کو کالعدم کیا ہے، خلاف قانون پاکستان ہے، کو لاکر پھر اسی پاکستان کے قانون کے خلاف اظہار کرتاہے۔ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش کیوں ہیں؟ دوسری جانب پشاور آرمی پبلک سکول کے عالم ناک واقعے نے عوام اور شہداء کے لواحقین کو تادم زیست غمزدہ کیا۔ تاہم اس عالم ناک اور شرم ناک واقعے سے سیکیورٹی اداروں کو ایک فائدہ مل گیا۔ پشاور آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کے بے بس اساتذہ کے کھندوں پر اپنے آپ کی اور اپنے بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ڈال دی۔ اب سیکیورٹی اداروں پر عبادت گاہوں کی خفاظت بھی بوچھ تھا۔ شکار پور امام بارگاہ میں باوضو نمازیوں کے جان سے ہولی کھیلی گئی۔ اور آرمی پبلک سکول جیسے شرمناک واقعے کے بعد سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کے باوجود پشاور میں حیات آباد میں امامیہ مسجد کا واقعہ پیش ہوا۔ جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ فیاض بھی حاصل ہوا۔ کہ اب عبادگاہوں کی اور بے بس نمازیوں کی حفاظت بھی نمازی خود کریں گے۔ خیر پاکستان کی عوام دلیر و شجاع ہیں۔ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ رہے ہیں اور رہے گا۔ لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اب کھلے عام پاکستان کے قانون کے خلاف بازار گرم ہورہاہے۔ اسکی حفاظت کی ذمہ داری کس کے کھندوں پر ڈالے گی؟ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خفاظت کون کرے گا۔ اب بندوق اور دیگر بھاری اسلحہ سے لیس سیکیورٹی اہلکار کی حفاظت کون کرے گا۔ یا پھر پاکستان کے قانون کو جیونیوز کے قانون پاکستان کے مخالف اینکرز اور کالعدم دہشت گرد لودھیانوی کے نذر کریں گے؟

ایک تبصرہ شائع کریں

 
Top