شیعہ آن لائن: آپریشن ضرب عضب کے دوران شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں جام شہادت نوش کرنے والے سرفروش میجرزاہد اقبال کو ان کے آبائی شہرمانسہرہ میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ میجر زاہد اقبال کا تعلق مانسہرہ کے نواحی علاقے خاکی شیر پورسے تھا۔ انہوں نے 1999ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیارکی، شہید کے والد عبدالرحیم کا کہنا ہے کہ 21 فروری کو میجرزاہد کو گھر واپس آنا تھا لیکن ان کا جسد خاکی گھر پہنچا۔ آج انہوں نے آنا تھا، وہاں سے کل ان کی شہادت ہوگئی، اگر آج آتے تو ہم کہتے غازی آگئے ہیں۔ لیکن اللہ نے ان کو شہادت کا رتبہ دیا۔ ہمیں فخر ہے کہ میرا بچہ قوم اور ملک کی خاطر شہید ہوا ہے۔ دو بہنوں اورپانچ بھائیوں کا لاڈلا ہونے کی وجہ سے میجر زاہد کی شہادت اہل خانہ کے لیے بہت بڑا صدمہ سہی۔ لیکن وطن کی محبت اس پرغالب نظر آئی۔ ان کے بھائی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیے۔ ان کے بھائی عبدالواحد کا کہنا تھا کہ انہیں ہم یہی پیغام دیں گے کہ ہم آج بھی نہیں ڈرے جتنی جانیں جائیں ہم دینے کو تیار ہیں، لیکن اس ملک سے دہشت گردی کو ختم کر دیں گے۔ یہ ان کے لئے میرا بہت واضح پیغام ہے۔ زاہد اقبال کے کمسن بیٹے حسنات اورحسنین بھی اپنے شہید والد کی قربانی پرنازاں ہیں۔ بیٹے حسنین نے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ میرے لئے دعائیں کرنا، میں واپس آوں گا۔ تو آپ لوگوں کے لئے تحفے لاؤں گا، مجھے اپنے بابا پر فخر ہے، میں بھی بڑا ہو کر فوجی بنوں گا۔ اہلیان مانسہرہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار ماہ میں کئی جوانوں کے علاوہ میجر واصف شاہ کے بعد میجر زاہد اقبال کی شہادت علاقے کے عوام کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

 
Top