حاجی گل اکبر کا تعلق پاراچنار کے نواحی علاقے شلوزان سے ہے، اپنی عمر کا بیشتر حصہ محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے کرم ایجنسی کے اندر مختلف مقامات پر نونہالان قوم کی علمی پیاس بجھاتے رہے، محترم پرنسپل صاحب ایک پرشکوہ شخصیت کے مالک ہیں اور پورے علاقے خصوصاً اپنے محکمے میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی سرویس کے دوران اساتذہ کے مسائل کو حل کرنے میں بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ حاجی گل اکبر چند سال قبل پرنسپل کی حیثیت سے محکمہ تعلیم سے سبکدوش ہوئے ہیں۔ کرم ایجنسی میں انتخابات کے بعد پائی جانی والی کشیدہ صورتحال کے بعد، تین اہم فریقین نے انہیں متفقہ طور پر سیکرٹری انجمن حسینیہ منتخب کیا۔ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے آج تک انہوں نے مختلف مواقع پر قوم کو متحد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بدقسمتی سے اسی دوران علامہ شیخ نواز عرفانی کی شہادت واقع ہوگئی، جس پر کرم بھر میں حالات بہت کشیدہ ہوگئے۔ اسی حوالے سے شیعہ آن لائن نے حاجی گل اکبر کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے، جسے اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ادارہ



شیعہ آن لائن: آپ نے سیکرٹری انجمن حسینیہ کا منصب کس جذبے کے تحت سنبھالنے کی حامی بھری ہے۔؟
حاجی گل اکبر: میں طویل مدت سے شعبہ تعلیم سے وابستہ رہا اور کچھ سال پہلے ہی ریٹائرڈ ہوا ہوں، اس دوران قوم بہت مشکلات سے دوچار تھی تو قوم نے اس مشکل مرحلے میں مجھے متفقہ طور پر سیکرٹری انجمن حسینیہ منتخب کرنے کی پیشکش کی، جبکہ میں نے اپنی عمر کے تقاضوں اور کچھ ذاتی مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے انکار کر دیا، لیکن قوم کے بزرگوں نے مجھے یہ کہا کہ آخر اس قوم کو بحران سے نکالنا ہے اور اس بحران سے نکالنے کیلئے کسی کو منتخب بھی تو کرنا ہے۔ لہذا میں نے حامی بھرلی کہ اگر طوری قوم کے مسائل کا حل اور قوم کا اتفاق و اتحاد میری وجہ سے قائم رہ سکتا ہے تو اپنی مصروفیات کے باوجود میں حاضر ہوں، یعنی قوم کے مسائل اور اتفاق و اتحاد کے جذبے کے تحت میں نے یہ منصب قبول کیا، جبکہ میرا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک اتفاقی امر تھا۔

شیعہ آن لائن: ان نامساعد حالات میں آپکا منشور کیا ہے؟ ذرا واضح فرمائیں۔؟
حاجی گل اکبر: جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم قبائل ہیں، قبائل میں مختلف نظریات اور مختلف قوموں کے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں اگرچہ عقیدے کے لحاظ سے سب ایک ہیں۔ تاہم اقوام بعض سیاسی نظریات یا مسائل پر بٹ سکتی ہیں جبکہ عقیدے کے لحاظ سے یعنی مذہب کے لحاظ سے ہمارے درمیان بالکل اتحاد برقرار ہے۔ بعض لوگ اپنے مفادات کی خاطر معمولی معمولی اختلاف کو ہوا دیتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے آباو اجداد کی خاطر اختلاف پیدا کرتے ہیں اور بعض لوگ اپنی پوزیشن بنانے کیلئے اختلافات پیدا کرتے ہیں، جبکہ ہمارا مشن یہ ہے کہ پوری کرم ایجنسی میں رہنے والی تمام اقوام کو ایسے اختلافات سے دور رکھ کر اتفاق و اتحاد سے رہنے کی تلقین کی جائے اور اس کیلئے جو بھی قدم اٹھانا پڑا تو میں دریغ نہیں کروں گا۔

شیعہ آن لائن: گذشتہ سے قطع نظر اس دفعہ آپکو قومی سطح پر متفقہ طور پر چنا گیا ہے، تو آپ نے قوم کے اتحاد کیلئے اب تک کیا اقدامات کئے ہیں۔؟
حاجی گل اکبر: میں ان تمام افراد کا مشکور ہوں، جنہوں نے مجھے اس عہدے کیلئے منتخب کیا ہے۔ اس عہدے کا تعلق ڈائریکٹ عوام کے ساتھ ہے جبکہ عوام جاہل ہیں۔ عوام کے پاس جو کچھ پہلے تھا، وہی اب بھی ہے، لیکن میں نے کوشش کی ہے اور کئی تنظیمیں بھی بنائی ہیں، تاکہ قوم کے اتحاد کو دوبارہ بحال کروں، اور میری خواہش ہے کہ کرم ایجنسی میں امن و امان اور بھائی چارہ ہو۔

شیعہ آن لائن: رات کے وقت پاراچنار میں اہل تشیع کے املاک کو لوٹا جا رہا ہے، اسکے متعلق آپکا کیا خیال ہے۔؟
حاجی گل اکبر: یہ ایک برننگ ایشو ہے، کرم ایجنسی میں مختلف قسم کے لوگ رہتے ہیں مثلاً اہل تصوف، سادات اور غیر سادات۔ تاہم ان سب کے آپس میں رشتے ہیں۔ اگر اس بنا پر آپس میں اختلاف ہوتا، تو سو سال سے یہ لوگ آپس ملکر رہ رہے ہیں، سوسال پہلے یہ اختلاف کیوں نہ تھا۔ بہرحال یہ اختلافات انتخابات کے بعد پیدا ہوئے ہیں، ووٹ دینا ہر شہری کے ضمیر کا معاملہ ہے۔ ہر شخص کا جی جس کو چاہے ووٹ دیتا ہے۔ اس میں کسی ذات پات کی کوئی پابندی نہیں۔ دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ ہر قوم اور ہر ملک میں گندے اور شریر لوگ بھی ہوتے ہیں اور نیک بھی۔ رات کے وقت جو لوگ اہل تشیع کی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انکی گاڑیوں چراتے ہیں اور یہاں تک کہ قتل بھی کرتے ہیں۔ یہ لوگ شرپسند ہیں، خدا کرے کہ یہ لوگ حکومت یا قوم کے ہاتھ آجائیں، تو ان کی نہ سفارش کی جائیگی اور نہ ہی ان کو اپنی قوم کے افراد تصور کیا جائیگا، بلکہ اگر مارا گیا، تو وہ ورَک (ناقابل پرسش) تصور کیا جائے گا، ان کو قومی طور پر بھی سخت سزا دی جائیگی، جبکہ ایسے لوگوں پر ہماری بھی کڑی نظر ہے۔

شیعہ آن لائن: حال ہی میں یعنی آپکے دور میں آغا صاحب کی شہادت ہوئی، عرض یہ ہے کہ کوئی بھی شخصیت جب دہشتگردی کا نشانہ بن جاتی ہے، تو اسکے اصلی قاتل یا کسی خاص گروہ کیخلاف ایف ائی آر درج کرائی جاتی ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ آغا صاحب کے قاتل کا کوئی پتہ ہے، اگر ہے تو اب تک اس کیخلاف ایف ائی آر درج کرائی جاچکی ہے۔؟
حاجی گل اکبر: آغا صاحب کی خدمات نہ صرف عوام بلکہ حکومت نے بھی تسلیم کی ہیں۔ معمول کے مطابق پاکستان میں شخصیات ٹارگٹ ہو رہی ہیں۔ بعض کے قاتل کا پتہ چلتا ہے اور بعض کا نہیں۔ جنکے قاتل معلوم نہ ہوں، تو نامعلوم افراد پر ایف آئی آر درج کرائی جاتی ہے۔ ہمارے آغا صاحب اسلام آباد میں نشانہ بنے، تو ان کی ایف آئی آر اسلام آباد میں ہی جائے وقوعہ کے قریبی تھانہ میں ان کے فرزندوں نے درج کرائی ہے۔ ان کی شہادت کے بارے میں تحقیقات کا حق ہم پر بھی ہے، مگر اب تک تو قوم آغا صاحب کی شہادت کے سوگ میں مصروف تھی۔ چہلم کے بعد انشاءاللہ میں خود اسلام آباد جاوں گا۔ وہاں جائزہ لے کر تحقیقات کروں گا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ تحقیقات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، جبکہ حکومت تحقیقات میں مصروف ہے۔

شیعہ آن لائن: تحریک حسینی کے صدر منیر آغا سے بھی اس حوالے سے رابطہ کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ مرکزی شخصیات، خصوصاً عارف آغا سے ہم نے رابطہ کرکے یہ پیشکش کی ہے کہ آغا صاحب کی شہادت کے کیس پر جتنا خرچہ آتا ہے، آدھا خرچہ ہم برداشت کریں گے۔ اس پیشکش پر آپکی رائے کیا ہے۔؟
حاجی گل اکبر: چونکہ مرکز سے وابستہ شخصیات اب تک آغا صاحب کے سوگ میں مصروف ہیں۔ لہذا مجھے اسکا کوئی علم نہیں کہ منیر آغا کا عارف آغا سے رابطہ ہوا ہے یا نہیں۔ بہرحال منیر آغا میرا پچپن کا دوست ہے، اس پر میرا پورا پورا یقین ہے کہ اگر  آغا صاحب کی شہادت کے کیس کے حوالے سے مجھے کسی بھی قسم کے تعاون یا رقم کی ضرورت پیش آئی تو وہ کسی قسم کا دریغ نہیں کرے گا۔

شیعہ آن لائن: کیا آغا صاحب کا ذاتی موبائل موجود ہے، اگر ہے تو اس پر آخری کالز کن کن افراد کی آئی ہیں، آغا صاحب کو کس نے بلایا اور کیا کہا ہے۔ اسکے ذریعے اور متعلقہ موبائل کمپنی کے تعاون سے تو ڈیٹا اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ آغا صاحب کے پاس محافظ کیوں نہ تھے، انکے لئے گارڈ فراہم کرنا، کیا آپکی ذمہ داری نہیں تھی۔؟
حاجی گل اکبر: ہاں انکا موبائل بالکل موجود ہے، اور اس میں یہ بھی موجود ہے کہ آغا صاحب کو آخری فون کس نے کیا اور کس نے بلایا اور کیا کہا ہے۔ دراصل میری کوشش ہے کہ چہلم کے فوراً بعد یہ ساری تحیقیقات کروں اور انشاءاللہ فون کا پتہ اور اس میں جو کچھ کہا ہے، سب کچھ اکٹھا کروں گا، جبکہ گارڈ کی فراہمی کے حوالے سے جس بات کا تعلق ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ آغا صاحب کی حفاظت ہمارا فریضہ تھا۔ لیکن ہم آغا صاحب کے حکم سے ایک قدم نہ آگے جاسکتے تھے اور نہ پیچھے۔ ہم نے کئی بار انہیں گارڈ کی پیشکش کی تھی۔ لیکن انہوں نے اسے رد کرتے ہوئے کہا کہ جس دن میری روزی اللہ کی بارگاہ میں ختم ہو جائیگی تو کوئی بھی اسے نہیں بڑھا سکتا۔ موت اور زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اور دوسری جانب ہمارا خیال تھا کہ پاکستان میں تو اسلام آباد پرامن علاقہ ہے، ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا واقعہ پیش آجائے گا۔

شیعہ آن لائن: آغا صاحب کی شہادت کے حوالے سے میڈیا میں متعدد مقالے شائع ہوچکے ہیں، ان میں سے ایک مقالہ میں کسی گلگتی انعام علی نے بیان کیا تھا کہ آغا صاحب کے قاتل دو طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں، ایک ایجنسیوں والے، جو شاید آغا صاحب کا نمبر مسلسل ٹریس کرتے رہے ہونگے، یا انکے قریبی دوست جنکو آغا صاحب کی زندگی کے آخری سفر کا علم تھا۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔؟
حاجی گل اکبر: بالکل، آغا صاحب ہمیشہ ایک مقرر اور مخصوص ٹائم پر نہیں نکلے تھے، نشانہ باز کو مکمل معلومات کیسے فراہم ہوئیں اور اسے یہ کیسے پتہ چلا کہ انکے پاس گارڈ نہیں ہے، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ قوی امکان ہے کہ انکے قریبی بندوں نے معلومات فراہم کی ہوں اور شاید ایسے ہی لوگ ان کی شہادت میں ملوث ہوں، لیکن یہ سب کچھ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی منظر عام پر آسکتا ہے۔

شیعہ آن لائن: آپکا کیا خیال ہے کہ آغا صاحب کی شہادت میں خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں یا پھر مذکورہ مقالے کے مطابق اس میں اپنے ہی لوگ ملوث ہیں۔؟
حاجی گل اکبر: شہادت میں اپنوں یا ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا پتہ اس بات سے چلے گا کہ آغا صاحب کا ایجنسیون سے کیا اختلاف تھا اور اپنے عوام سے کیا اختلاف تھا۔ انتخابات کے دوران اپنے عوام سے جو اختلاف تھا وہ تو وقتی طور پر تھا۔ وہ اتنا بڑا اختلاف تو نہیں تھا۔ بالاخر ان تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا کہ فون پر جو کال آئی تھی وہ کس کی تھی اور کیوں بلایا گیا ہے، یا پھر آغا صاحب خود ہی گھر سے باہر نکلے تھے۔

شیعہ آن لائن: کہا جاتا ہے کہ آغا صاحب کو مجلس کیلئے مدعو کیا گیا تھا، تو مذکورہ مجلس والوں سے پوچھا کیوں نہیں جاتا کہ انہوں نے آغا صاحب کو جب بلایا تو انکی شہادت کے بعد آج تک پوچھا بھی نہیں، مجلس کیلئے مدعو کرنے والوں کے متعلق کیا خیال ہے۔؟
گل اکبر: مجلس پر مدعو کرنے والوں کی اس حوالے سے غفلت اپنی جگہ پر تو ٹھیک ہے، لیکن اب تک ہمیں یہ بھی یقین نہیں ہے کہ آغا صاحب کو واقعاً مجلس کیلئے بلایا گیا تھا، یا پھر اپنے ہی بندوں نے بلایا تھا۔ جب یہ پتہ چلے کہ مجلس کیلئے کس نے بلایا ہے تو ان کے منتظمین سے ضرور پوچھیں گے۔

شیعہ آن لائن: جیسا کہ آپ اور ہم سب کے علم میں ہے کہ شہید عارف حسین الحسینی کی شہادت کے چند ہی دن بعد قاتل اور قتل میں ملوث افراد کا پتہ چلا۔ جبکہ اس قتل کا اب تک کیوں پتہ نہیں چلا، اس حوالے سے کوئی کمی تو نہیں، رقم کی کمی ہے کیا؟ اور بطور صحافی کے ہم کوئی کمک کرسکتے ہیں؟
گل اکبر: شہید عارف حسینی الحسینی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیڈر تھا۔ ان سے نہ صرف پاکستانی دہشت گردوں بلکہ شیطان بزرگ امریکہ کو بھی خطرہ تھا۔ چنانچہ سب نے ملکر عارف الحسینی کو شہید کیا۔ اور پھر ان کی شہادت کے فورا بعد ہی سب کا پتہ بھی چلا۔ قاتلوں میں سے بعض قدرتی طور پر معذےر ہوگئے۔ جبکہ ہمارے آغا صاحب کا تعلق صرف پاراچنار کے شیعہ قوم سے تھا۔ چنانچہ اب تک ان کے قاتلین کا کوئی پتہ نہیں چلاہے۔ دوسری جانب ان کے قاتلین کے متعلق معلومات و تحقیقات کے حوالے سے تو کچھ کام ہوا ہے۔ لیکن اب اسے عوام سامنے نہیں لاسکتے کہ کام بگڑجائے گا۔ حتی کہ بعض باتیں ہم سے بھی چھپائی گئی ہیں۔ تاہم چہلم کے بعد میں خود اسلام آباد جاکر تحقیقات کا جائزہ لوں گا۔
تمام عوام اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ذمہ داری ہے۔ کہ لیڈر تو آتے رہیں گے۔ ان کی حفاظت کرے اور اس معاملے میں مدد کرے اور جن کو جتنے معلومات ہوں وہ ہمارے ساتھ شئیر کریں۔ تاکہ آئندہ کیلئے بھی مفید ثابت ہوجائے۔ اور مستقبل میں امن رہے۔

شیعہ آن لائن: بطور سیکریٹری انجمن حسینیہ قوم کے نام کیا پیغام ہے؟
گل اکبر: تین مہینے ہوگئے کہ میں انجمن کے سربراہ کی حیثیت سے کام کررہا ہوں۔ پور قوم سے میں گزارش کرتا ہوں کہ سر زمین پاراچنار ہمارے شہداء نے محفوظ رکھ کر ہمارے ہاتھ میں دی ہے۔ تو اس میں پرامن رہیں اور اسکی حفاظت کریں۔ اور تفرقہ میں نہ پڑے۔ کیونکہ ہمیں اپنے دین، ناموس، اور اپنی سرزمین پاراچنار کو ہر صورت میں بچانا ہے۔



ایک تبصرہ شائع کریں

 
Top