ڈی آئی جی ڈیرہ عبدالغفور آفریدی نے کہا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں عالمی دہشتگرد تنظیم ’’داعش‘‘ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ شہر کی مختلف دیواروں پر وال چاکنگ کچھ شرارتی لوگوں نے کرائی ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی ہم اس پر سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ دہشتگردی کیخلاف پولیس فرنٹ لائن پر کھڑی مقابلہ کر رہی ہے، جبکہ دہشتگرد چھپ کر کام کرتے ہیں۔ دہشتگرد پولیس افسران کے خاندانوں کو نشانہ بنا کر ایک غلط پیغام پھیلا رہے ہیں، پولیس بھی جواباً ان دہشتگردوں کے خاندانوں کو برباد کر سکتی ہے، مگر ہم تمام کام قانون اور ضابطے میں رہ کے کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈی آئی جی عبدالغفور آفریدی کا کہنا تھا کہ پولیس کو بھی چاہئے کہ وہ ڈیوٹی اور بنا ڈیوٹی کے بھی غفلت کا مظاہرہ ہرگز نہ کریں۔ دہشتگردوں کیخلاف کارروائی میں عوام پولیس سے تعاون کریں۔ مشتبہ افراد کی موجودگی کا مجھے ڈی پی او یا کسی بھی پولیس افسران کو بذریعہ موبائل میسج بتایا جا سکتا ہے۔ مکان مالکان کرایہ داروں کے قوائد متعلقہ تھانے میں جمع کرائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے دہشتگردوں کے تمام گروپوں کی بیخ کنی کردی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں موجودہ بدامنی کی لہر میں کوئی نیا گروپ ملوث نہیں ہے، یہ علاقے سے بھاگے ہوئے لوگ تھے۔ اب کچھ لوگ علاقہ غیر سے ان کے ساتھ آکر یہاں شامل ہوئے ہیں۔ ہم ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کر رہے ہیں۔ کسی بھی دہشتگرد کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ پشاور حملے کے بعد پولیس کی سکولز اور دیگر اداروں کی جانب سیکورٹی کے حوالے سے توجہ مبذول ہونے سے ان گروپوں کیخلاف توجہ کم ہوئی، جس کا دہشتگردوں نے فائدہ اٹھایا۔ اب پولیس نے اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کا کوئی شہری بھی اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھے۔ پولیس ان کی حفاظت کیلئے مامور ہے۔ جو دہشتگردی کی کارروائیاں ہوئی ہیں، ان کے اصل ملزمان تک پولیس پہنچ چکی ہے اور عنقریب ان کو بھی کیفر کردار تک پہنچا دیا جائیگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

 
Top