شیعہ آن لائن: حیات
آباد کے علاقے فیز فائیو میں امامیہ مسجد میں دوران نماز جمعہ خودکش اور ہینڈ
گرنیڈ بم دھماکوں کے نتیجے میں 19 نمازی شہید جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوگئے، ذرائع
کے مطابق پشاور کے علاقے حیات آباد میں واقع امامیہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا
رہی تھی کہ 6 دہشتگردوں نے حملہ کر دیا، انہوں نے ہینڈ گرنیڈ پھینکے اور فائرنگ
کی، ایک خودکش حملہ آور نے مسجد میں گھس کر خود کو دھماکہ سے اڑا دیا، مجلس وحدت
مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات سید عدیل عباس زیدی کے مطابق دھماکہ میں
اب تک 19 نمازی شہید جبکہ 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، زخمی ہونے والے افراد کو حیات
آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا ہے، ایک خودکش بمبار سکیورٹی پر مامور شخص کی
فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ دھماکے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ
ہوگئیں۔
دیگر ذرائع کے مطابق سانحہ شکار پور سے لگنے والے گھاؤ ابھی مندمل نہ ہوئے تھے کہ قوم ایک اور کرب میں مبتلا ہوگئی۔ پشاور کے علاقے حیات آباد میں پاسپورٹ آفس کے قریب امام بارگاہ کے اندر امامیہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی کہ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی کے مطابق خودکش بمبار مسجد کے عقبی حصے سے اندر تاریں کاٹ کر داخل ہوئے۔ ایک خودکش بمبار نے ابتداء میں ہی خود کو اڑا دیا، دوسرے نے صحن اور تیسرے نے مسجد کے اندر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ دہشتگردوں نے مسجد میں داخل ہونے سے قبل اپنی گاڑی مخصوص کیمیکل کے ذریعے جلا کر تبادہ کر دی۔ حملہ آوروں کی جانب سے دستی بم بھی پھینکے گئے۔ دوسری جانب اے آئی جی بم ڈسپوزل یونٹ کا کہنا ہے کہ خودکش بمباروں کی تعداد چار تھی، جن میں سے تین نے خودکش دھماکے کئے، ایک خودکش بمبار کی جیکٹ نہیں پھٹ سکی۔
جائے وقوعہ سے ملنے والے تین دستی بم بھی ناکارہ بنا دیئے گئے۔ ایک خودکش بمبار کی لاش اور 6 ٹانگیں ملی ہیں۔
زخمی نمازیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ امام بارگاہ خودکش حملے پر وزیراعظم نواز شریف ،سابق صدر آصف زرداری، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، وزیراعلٰی کے پی کے پرویز خٹک، وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے شدید مذمت کی ہے جبکہ مجلس وحدت مسلمین اور بلوچستان شیعہ کانفرنس نے واقعے کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے وزیر داخلہ سے پشاور دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی۔ ادھر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کی وجہ سے عمران خان کو دھماکے کی جگہ پر جانے سے روک دیا۔
دیگر ذرائع کے مطابق سانحہ شکار پور سے لگنے والے گھاؤ ابھی مندمل نہ ہوئے تھے کہ قوم ایک اور کرب میں مبتلا ہوگئی۔ پشاور کے علاقے حیات آباد میں پاسپورٹ آفس کے قریب امام بارگاہ کے اندر امامیہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی کہ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی کے مطابق خودکش بمبار مسجد کے عقبی حصے سے اندر تاریں کاٹ کر داخل ہوئے۔ ایک خودکش بمبار نے ابتداء میں ہی خود کو اڑا دیا، دوسرے نے صحن اور تیسرے نے مسجد کے اندر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ دہشتگردوں نے مسجد میں داخل ہونے سے قبل اپنی گاڑی مخصوص کیمیکل کے ذریعے جلا کر تبادہ کر دی۔ حملہ آوروں کی جانب سے دستی بم بھی پھینکے گئے۔ دوسری جانب اے آئی جی بم ڈسپوزل یونٹ کا کہنا ہے کہ خودکش بمباروں کی تعداد چار تھی، جن میں سے تین نے خودکش دھماکے کئے، ایک خودکش بمبار کی جیکٹ نہیں پھٹ سکی۔
جائے وقوعہ سے ملنے والے تین دستی بم بھی ناکارہ بنا دیئے گئے۔ ایک خودکش بمبار کی لاش اور 6 ٹانگیں ملی ہیں۔
زخمی نمازیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ امام بارگاہ خودکش حملے پر وزیراعظم نواز شریف ،سابق صدر آصف زرداری، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، وزیراعلٰی کے پی کے پرویز خٹک، وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے شدید مذمت کی ہے جبکہ مجلس وحدت مسلمین اور بلوچستان شیعہ کانفرنس نے واقعے کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے وزیر داخلہ سے پشاور دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی۔ ادھر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کی وجہ سے عمران خان کو دھماکے کی جگہ پر جانے سے روک دیا۔

shiaonline
جواب دیںحذف کریں