تحریر: ثاقب اکبر
تحریر: ثاقب اکبر
شیعہ آن لائن: نہج البلاغہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات
اور حکیمانہ اقوال پر مبنی ایک ایسی کتاب ہے جس کی شرق و غرب میں شہرت ہے۔ صدیوں
سے یہ کتاب دینی ادب کے گراں قدر سرمائے کے طور پر زیر استفادہ ہے۔
اسے علامہ سید رضی (م ۴۰۶ھ) نے قدیم ترین
اسلامی مآخذ سے انتخاب کرکے مرتب کیا۔ ان کی نظر اگرچہ بلاغت کے دُرھائے آبدار کی
تلاش میں تھی، تاہم جب ’’باب مدینۃ العلم‘‘ کے فرمودات میں سے انتخاب کرنا ہو تو
معارف دینی، حقائق تاریخی، وقائع زمانی، حقائق زمینی، حِکَمِ آسمانی کا ان میں
چھلکنا تو پھر ناگزیر ہوگا اور ایسا کیوں نہ ہو کہ نبی کریمؐ نے علی ؑ ہی کے بارے
میں فرمایا ہے:
انا دارالحکمہ وعلی بابھا
میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔
آپ ہی کے بارے میں آنحضرتؐ کا ارشاد ہے کہ
اقضاکم علی
تم میں سے بہترین قاضی علی ہے۔
آنحضرتؐ نے آپؐ کے بارے میں ہی ارشاد فرمایا کہ:
قرآن علی کے ساتھ ہے علی قرآن کے ساتھ ہے۔
آپ ہی سے آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا کہ:
اے علی! جیسے میں نے تنزیل قرآن پر جنگ کی ہے، تم تاویل قرآن پر جنگ کرو گے۔
حضرت علی ہی کا کلام دیکھ کر علمائے عرب بے ساختہ کہتے ہیں:
کلام الامام امام الکلام
امام کا کلام، کلام کا امام ہے۔
نہج البلاغہ کے بارے میں نامور علمائے اسلام کا کہنا ہے کہ
تحت کلام الخالق فوق کلام المخلوق
یہ خالق کے کلام سے کم تر لیکن مخلوق کے کلام سے بالاتر ہے۔
یہ کتاب عالم اسلام کی عظیم الشان درس گاہوں اور جامعات میں شاملِ درس ہے۔ عالم
اسلام کی بلکہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی جامعہ الازہر میں آج بھی نہج البلاغہ
شامل نصاب ہے۔ دنیا کی تقریباً ہر زندہ زبان میں اس کے تراجم ہوچکے ہیں۔ مستند اور
عظیم شیعہ سنی علماء نے اس کی شرحیں لکھی ہیں۔ اس کے ترجمے، تشریح اور تدریس کا
سلسلہ پوری دنیا میں آج بھی جاری ہے۔ عوام و خواص کی زبان پر بہت سے جاری حکیمانہ
اقوال نہج البلاغہ سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان بھی روزمرہ تقریروں میں نہج
البلاغہ سے کئی اقوال نقل کرتے ہیں۔ کالم نویس نہج البلاغہ سے جملے اخذ کرکے اپنے
کالموں کو آراستہ کرتے ہیں۔ نہج البلاغہ کے بارے میں کئی بین الاقوامی سیمینار
منعقد ہوچکے ہیں۔ کئی ایک موضوعی نہج البلاغہ چھپ چکی ہیں۔ موضوعی شرحوں اور
تفسیروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دنیا میں کئی ایک ادارے ’’نہج البلاغہ‘‘ کے نام پر
قائم ہیں۔ جو اس کتاب پر علمی و تحقیقی کام انجام دیتے رہتے ہیں۔ دنیا میں بہت سے
سلسلہ ہائے درس، درس نہج البلاغہ کے نام سے جاری ہیں۔ نہج البلاغہ کی معجم المفہرس
شائع ہوچکی ہے۔ نہج البلاغہ پر ادبی اور لغوی حوالے سے کاموں کا الگ سلسلہ ہے۔
اسناد نہج البلاغہ کی تحقیق پر دنیا میں بے پناہ کام ہوچکا ہے۔
چند ہفتے قبل پنجاب حکومت نے دیگر کئی ایک کتابوں کے علاوہ اس گراں قدر کتاب پر
بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پر ملک کے طول و عرض میں احتجاج کا سلسلہ شروع
ہوگیا۔ اہل علم و دانش کو اس فیصلے پر بہت تشویش ہوئی اور آخر کار پابندی کا یہ
فیصلہ واپس لے لیا گیا، لیکن ہم یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا پنجاب حکومت
کے ’’عظیم دماغوں‘‘ کو علم تھا کہ انھوں نے اس ’’نہج البلاغہ‘‘ کی اشاعت پر پابندی
عائد کی ہے، جس کا ذکر سطور بالا میں کیا گیا ہے؟
کیا مولانا طاہر اشرفی صاحب اور ان کی ’’مایہ ناز ٹیم‘‘ نے حکومت کی اس سلسلے میں
راہنمائی کی تھی یا کوئی اور ’’دل فگار دانشور‘‘ اس کام کے پیچھے تھے۔؟
سوال یہ ہے کہ کیا ’’نہج البلاغہ‘‘ دہشت گردی اور فرقہ واریت پھیلانے کا باعث ہے
یا اسلام کی ’’محترم شخصیات‘‘ کی اس میں توہین کی گئی ہے۔؟
کیا ہمارے ’’ذمہ دار حکمرانوں‘‘ کے علم میں ہے کہ نبی کریمؐ کی توہین (نعوذ باللہ
من ذالک) پر مبنی آج تک دنیا میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں کن ’’اسلامی
کتابوں‘‘ سے سند پیش کی گئی ہے؟ کیا ہمارے ’’آگاہ دماغ‘‘ جانتے ہیں کہ’’رنگیلا
رسول‘‘ لکھنے والے ہندو راج پال سے لے کر ’’شیطانی آیات‘‘ لکھنے والے سلمان رشدی
میں سے کسی نے ’’نہج البلاغہ‘‘ سے ایک سطر بھی نقل نہیں کی۔ تو پھر جن کتابوں سے
انھوں نے توہین آمیز مواد نقل کیا ہے، اُن کے بارے میں اصحاب الرائے کی ’’رائے
مبارک‘‘ کیا ہے۔؟
کسی کو اگر یہ اعتراض ہو کہ نہج البلاغہ میں بعض مکتوبات یا خطبات کا تعلق حضرت
علیؑ کے دور کے مشاجرات اور جنگ جمل و صفین وغیرہ سے ہے تو پھر وہ ساری کتابیں ضبط
کر لی جائیں، جن میں ان جنگوں کا تذکرہ آتا ہے۔ یہ تاریخ اسلام کا المیہ ہے کہ اس
کے صفحات ایسے معرکوں کے ذکر سے سیاہ ہیں، جن کے دونوں طرف اصحاب پیغمبر اکرمؐ
شریک تھے۔ واقعاً یہ امر غمناک ہے کہ صفحاتِ تاریخ سے ان واقعات کو محو نہیں کیا
جاسکتا۔ ان جنگوں کا تذکرہ تو رہے گا کہ یہ تاریخ کا عبرت انگیز، حقیقت کشا اور
ناگزیر حصہ ہے، تو کیا ان کے بارے میں میں امیر المومنین حضرت علیؑ کا نقطہ نظر
محو کر دیا جائے؟ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ خلیفۂ راشد برادر رسول حضرت علیؑ کی رائے
اور نظریئے پر پابندی لگا دی جائے۔؟
تاریخ اسلام کے اوراق میں یزید کے اشعار بھی ثبت ہیں، انھیں شائع کرتے رہیں اور
خاندانِ نبوت کے نقطۂ نظر کی اشاعت پر پابندی عائد کرکے پاکستان میں فرقہ واریت
اور دہشت گردی کا علاج کر دیا جائے؟ آفرین ہے پنجاب حکومت کے ’’لائق ذمہ داروں‘‘
پر۔ آخر یہ فیصلہ کرنے والوں کے بارے میں بھی تحقیق کی جانا چاہیے کہ انھوں نے کس
کے ایما پر یہ کام کیا۔ فرقہ واریت پھیلانے والی کتابوں پر پابندی کا معاملہ سنگین
بھی ہے اور حساس بھی۔ وہ کتابیں جنھیں حدیث و تاریخ و کلام کے بنیادی متون کی حیثیت
حاصل ہے، ان پر پابندی عائد کرنا دانش مندی نہیں، اگرچہ ان میں ایسی باتیں موجود
ہیں، جن پر بعض یا بیشتر علماء و محققین کو اعتراض ہو۔ اس سلسلے میں یہ بات ہمیشہ
پیش نظر رہنا چاہیے کہ کوئی بھی کتاب کتنی ہی معتبر کیوں نہ ہو، اس کے مطالب کو
پرکھنے کے لئے مسلمانوں کے پاس قرآن حکیم جیسی الٰہی دستاویز موجود ہے، جو سند
شناسی سے بالاتر ہے اور ہر دوسری کتاب یا مطالب کے لئے کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔
البتہ جہاں تک نہج البلاغہ کا معاملہ ہے تو کیا ہمارے حکمرانوں کے علم میں یہ بات
ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے فوری بعد نہج
البلاغہ میں موجود مولا علی ؑ کے اس مکتوب گرامی کے انگریزی ترجمے کا اقدام کیا جو
امیرالمومنینؑ نے گورنر مقرر کرتے ہوئے حضرت مالک اشتر کے نام لکھا تھا۔ قائداعظم
مرحوم اس مکتوب میں بیان کئے گئے حکمرانی کے اصولوں کو پاکستان میں رائج اور
اختیار کرنا چاہیے تھے۔ یہی مکتوب سابق عبوری وزیراعظم ملک معراج خالد نے پاکستان
کے تمام ارکان پارلیمان کو اس وقت بھجوایا، جب وہ قومی اسمبلی کے اسپیکر تھے بلکہ
ملک معراج خالد تو تمام عمر اس مکتوب گرامی کی نشر و اشاعت کا اہتمام کرتے رہے۔
یہی کام انھوں نے اسپیکر پنجاب اسمبلی، وزیراعلٰی پنجاب اور بعدازاں وزیراعظم کی
حیثیت سے بھی انجام دیا۔ اگر کسی کے ذہن میں اسی کتاب پر پابندی عائد کرنے کا خبط
پیدا ہوجائے تو اسے ذہنی زوال حکمت ہی کہنا پڑے گا۔ امید ہے آئندہ اس کشور اسلامی
میں ایسا موقع نہیں آئے گا۔
آیئے امام حکمتؑ کے ان چند حکیمانہ اقوال پر مضمون ختم کرتے ہیں جو نہج البلاغہ سے
لئے گئے ہیں:
* حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا مگر وبا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔
* بات کرو، تاکہ پہچانے جاؤ، کیونکہ آدمی اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔
* جسے عمل پیچھے ہٹا دے اسے نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔
* جو حق سے ٹکرائے گا حق اسے پچھاڑ دے گا۔
* دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔
* تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔
* تمھارے نفس کی آراستگی کے لئے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لئے ناپسند
کرتے ہو، اس سے خود بھی پرہیز کرو۔
* جس نے تمھیں بولنا سکھایا ہے، اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔
* اتنی عقل تمھارے لئے کافی ہے جو گمراہی کی راہوں کو ہدایت کے راستوں سے الگ کرکے
تمھیں دکھا دے۔
* لوگ جس چیز کو نہیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ہیں۔
* وہ تھوڑا سا عمل جس میں ہمیشگی ہو، اس زیادہ سے بہتر ہے جو دل تنگی کا باعث ہو۔

ایک تبصرہ شائع کریں