تحریر:
عرفان علی
شیعہ آن لائن: زندہ دلوں کے شہر لاہور میں 23 مارچ 1940ء کو قرارداد منظور
ہوئی، جسے قرارداد پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ اسی قرارداد میں بعدازاں ترمیم کی گئی
اور یہی پاکستان کے قیام پر مسلمانان ہند کے اتفاق کی علامت قرار پائی۔ محمد علی
جناح مملکت پاکستان کے بانی، بابائے قوم اور قائد اعظم ہوئے۔ ناموں کے انسانی
زندگی پر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ یہ نام محمد علی یکجا ہوں تو اگر واقعی اثرات
مرتب ہوجائیں تو اسم بامسمٰی شخصیت وجود میں آتی ہے۔ اسی شہر لاہور میں قدرت کو
سید محمد علی نقوی کی ولادت منظور تھی۔ 1940ء کی قرارداد نے مسلمانان ہند کو آزادی
دلوانے میں اہم کردار ادا کیا اور لاہور ہی کے زندہ دل ڈاکٹر محمد علی نقوی نے
مسیحائی کا کردار ادا کرتے ہوئے نوجوان طلباء کو اغیار کے افکار کی اندھی تقلید سے
نکال کر غیرت و آزادی پر مبنی اسلام ناب محمدی کے لازوال افکار کا گرویدہ بنا
ڈالا۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ تعالٰی کی جانب سے مبعوث نبی ؑ تھے، صاحب
معجزہ تھے۔ قم باذن اللہ کے صاحب تھے۔ لیکن ڈاکٹر محمد علی نہ تو معصوم تھے اور نہ
ہی مبعوث۔ اس کے باوجود انبیاء و آئمہ علیہم السلام کی راہ کے راہی بن کر اپنے
اخلاص اور انتھک محنت سے نوجوان طلباء کے قائد بنے۔ شیعہ اثناء عشری طلباء کو
سیکولرازم اور کمیونزم کے شکنجے سے آزادی دلوانے والے، ناصبیت کے مقابلے میں
حسینیت کی شمع فروزاں کے پروانوں کی باہدف علمی زندگی کی راہ سجھانے والے کوئی اور
نہیں ڈاکٹر محمد علی نقوی تھے۔ دوران حج برات از مشرکین سے لے کر خط مقدم جبھہ تک
ڈاکٹر نقوی کا کردار قابل رشک رہا۔
نوجوان اور جوان طلباء ہی کسی ملت کی کامیاب سرنوشت کی کلید ہوتے ہیں۔ جب
متقی و صالح جامع الشرائط عالم باعمل مفتی جعفر حسین جیسا قائد ہو اور ڈاکٹر محمد
علی نقوی اور ان کی حسینی انجمن امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے جانم فدائے رہبر کے
نعرے پر عمل پیرا طلباء ہوں تو پھر اسلام آباد میں امریکا و آل سعود کی خائن حکومت
کے اتحادی اور مادر وطن کے اقتدار پر مسلط جنرل ضیاء جیسے ظالم و جابر غیر آئینی
حکمران کے خلاف پورے ملک سے بس یہی ایک گروہ اناالحق کا نعرہ مستانہ بلند کرتا ہے۔
کہاں تھیں: جموریت، جمہوری حقوق، سیاسی آزادیوں اور انسانی حقوق کے نعرے لگانے
والی سیکولر اور مذہبی جماعتیں اور ان کے قائدین۔ سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ ایک
اس آمر مطلق جنرل کی پھینکی ہوئی ہڈیوں اور بچی ہوئی بوٹیوں کے لالچ میں اس کے
تلوے چاٹ رہے تھے اور دوسرے موت کے خوف سے گھروں میں قید
تب اگر کسی نے باطل کو باطل اور ظلم کو ظلم کہہ کر علم بغاوت بلند کیا تو
وہ پاکستان کے شیعہ مسلمان تھے اور اس احتجاجی تحریک اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے
دھرنے کو کامیاب بنانے کا سہرا ان جوانوں کے سر ہے، جنہوں نے علماء کی قیادت میں
اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی اور ان نوجوانوں کو یکجا کرنے میں جو
کلیدی کردار ادا کیا گیا، وہ ڈاکٹر محمد علی نقوی نے کیا۔ میں بزرگان کی اس رائے
سے متفق نہیں کہ وہ سفیر انقلاب یا پاسبان انقلاب تھا۔ ممکن ہے کہ لوگوں کو اپنی
نظر سے ایسا نظر آرہا ہو، بلکہ اس کے شب و روز کی داستان مجھے خود یہ گواہی دینے
پر مجبور کرتی ہے کہ وہ مجسم انقلاب تھا اور جو بھی باصلاحیت نوجوان تھے، انہوں نے
اس مجسم انقلاب سے اپنے اپنے ظرف کے مطابق انقلاب اپنے وجود میں درآمد کرلیا تھا۔
لوگ خوفزدہ تھے کہ انقلاب اسلامی ایران ایکسپورٹ ہوسکتا ہے۔ انقلاب امپورٹ
اور ایکسپورٹ کے مروجہ قوانین و ضوابط کے تحت درآمد یا برآمد نہیں ہوتا۔ جس میں
ظرفیت ہوتی ہے وہ اسے خود بخود درآمد کرلیتا ہے اور انقلاب کو برآمد کرنے کے لئے
کرائے کے آدمیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ انقلاب ہے کوئی گندم یا چاول نہیں کہ اس
کی درآمد و برآمد کو کنٹرول کیا جاسکے۔ اسے قواعد و ضوابط کے تحت لایا جاسکے۔
ڈاکٹر محمد علی نقوی نے جس دور میں کام کا آغاز کیا تھا، تب کونسا انقلاب رونما
ہوا تھا؟ انقلاب اسلامی ایران 11 فروری 1979ء میں کامیاب ہوا۔ امامیہ اسٹوڈنٹس
آرگنائزیشن انقلاب سے کئی سال قبل معرض وجود میں آگئی تھی۔ دل کو دل سے راہ ہوتی
ہے، آئی ایس او نے پاکستان کے شیعہ طلباء کی فکر و نظر میں جو انقلاب برپا کیا تھا
تو اس منقلب جوان طالب علم کو انقلابی نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے۔ چونکہ وہ مجسم
انقلابی تھے، اسی لئے انہوں نے انقلاب سے پہلے ہی انقلابی بن کر اس کے استقبال کی
راہ ہموار کردی تھی۔
مارچ کا مہینہ اسی لئے دشمنوں کو کھلتا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو
مسلمان حکمرانی کے لئے آزادی دلوانے میں اسی ایک مہینے کی صرف ایک قرارداد نے اہم
کردار ادا کیا تھا۔ لاہور شہر بھی اسی قرار داد کی وجہ سے کھلتا تھا۔ اسی لئے ممکن
ہے کہ مارچ کے مہینے اور لاہور کو، اسی مناسبت سے ڈاکٹر محمد علی نقوی کی شہادت کے
لئے چنا گیا ہو۔ لیکن دشمن ناکام رہا کیونکہ یہ مکتب اسلام ناب محمدی ہے اور اس کے
لازوال افکار پر مبنی انقلاب امر ہوتے ہیں، یہ کبھی مرا نہیں کرتے، انہیں کوئی بھی
قتل نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر شہید کو بجا طور پر شہید پاکستان قرار دیا جانا چاہئے۔ وہ
مجسم انقلاب تھے اور ان کی انقلابی فکر کے وارث شیعہ طلباء ہیں۔ یہ نام ہی افکار
کی منڈی میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج ڈاکٹر کی اپنی
طلباء تنظیم کے مقابلے میں نئی تنظیم بنانے والے ڈاکٹر شہید کے گن نہ گا رہے ہوتے۔
لازم ہے کہ آئی ایس او طلباء و طالبات اپنے عظیم ورثے کی حفاظت کریں۔

ایک تبصرہ شائع کریں