تحریر: سیدہ ایمن نقوی
شیعہ آن لائن:
میرےخیال نے جتنے بھی لفظ سوچے ہیں
تیرے مقام تیری عظمتوں سے چھوٹے ہیں
اُنہیں ہم سے بچھڑے بیس سال بیت گئے، لیکن اُن کے افکار و نظریات اور عظیم اہداف آج بھی زندہ ہیں۔ شہداء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں، قرآن کریم بھی اس بات کی گواہی دے رہا ہے، ارشاد رب العزت ہے، "فَلا تَحسَبّنَ الذِینَ قُتِلوا فِی سَبِیل اللہِ اَمواتاً بَل اَحیَاء عِندَ رَبّھِم یُرزَقُون"۔ وہ لوگ جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار نے نزدیک رزق ہاتے ہیں۔ شہداء اُس دنیا میں تو زندہ ہیں ہی لیکن بعض شہداء ایسے کام کر گئے کہ اُنکے ان کاموں نے اُنہیں اِس دنیا میں بھی زندہ و جاوید بنا دیا، اور انہی میں ایک نام جو ستارے کی مانند جگمگاتا نظر آتا ہے، وہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا نام ہے۔
دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو لیڈر شپ کے لئے پیدا ہوتے ہیں، ایسے لوگوں میں کچھ تو خدادادی صلاحیتیں ہوتی ہیں اور کچھ وہ اپنے نفس کی تربیت کر کے انہیں مزید جِلا بخشتے ہیں، ایسے لوگ جہاں بھی جائیں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ کی سادہ، پُرخلوص، دلنشین شخصیت اور خوبصورت و رواں فن بیاں نے جلد ہی آپ کو مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور آپ معاشرے کے آسمان پر خورشید بن کر چمکنے لگے، ایسا خورشید کہ جس کی روشنی سے خلقِ خدا استفادہ کرتی ہو۔ آپ نے آئی ایس او کی صورت میں نوجوانوں اور جوانوں کو ایک بہترین مذہبی پلیٹ فارم فراہم کیا۔
ڈاکٹر شہید ایک نظریاتی و انقلابی فکر کے مالک اور آئمہ اطہار (ع) کے سچے پیروکار تھے۔ عاشقِ خطِ ولایت فقیہ اور امریکہ و اسرائیل کے سرسخت دشمن۔ ہمیشہ گوش بہ فرامین امامِ راحل، 1986ء میں جب امام خمینی نے فرمایا کہ "ہر کس می تواند باید بہ جبھہ برود" (یعنی جو بھی محاذِ جنگ پر جا سکتا ہو وہ ضرور جائے)، تو آپ اپنی تمام مصروفیات، گھربار حتٰی گھروالوں کو اطلاع دیئے بنا سب چھوڑ کر امامِ راحل کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے ایران کے محاذِ جنگ پر جا پہنچے اور وہاں سے تیسرے دن گھروالوں کو اطلاع دی کہ میں ایران کے محاذِ جنگ پر ہوں۔ آپ نے محاذ سے ہی اپنے والد کو جو ان دنوں لندن میں تھے اطلاع دی کہ "والد بزرگوار! میں آپ سے بےحد معذرت خواہ ہوں کہ آتے ہوئے آپ سے اجازت نہ لے سکا، کیونکہ جب امام خمینی کی صدائے استغاثہ میرے کانوں تک پہنچی، اور مجھے اپنی زندگی کی وفا کے بارے میں بھی یقین نہیں تھا، اسلئے کوئی لمحہ ضائع کئے بنا یہاں پہنچ گیا۔ مجھے امید ہے کہ آپ معاف فرمائیں گے، میں آپ سے شہادت کی دعا کا ملتمس ہوں، خدا مجھے ان پاک جوانوں کے ساتھ شہادت نصیب فرمائے"۔ جب ایک قریبی دوست نے آپ کو بتایا کہ آپ کے گھر والے آپ کے لئے خاصے پریشان ہیں، تو آپ نے جواب دیا کہ "میرے گھر والوں سے کہیں کہ میں خریت سے ہوں، یہاں شہادتوں کا ماحول ہے اور کچھ روز قبل ہی امام خمینی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے، ان کی دست بوسی کی ہے۔ میرا جی نہیں چاہتا کہ ایسا روحانی ماحول چھوڑ کر اور شہادت جیسی نعمت سے منہ موڑ کر واپس آوں۔
1987ء میں جب ایرانی حجاج نے مکہ میں " مرگ بر امریکہ و مرگ بر اسرائیل" کے نعرے بلند کئے تو جواب میں سعودی حکومت نے ان کا قتلِ عام کیا۔ اس وقت امام خمینی نے حکم دیا کہ "باید برائت از مشرکین شود"، (یعنی مشرکین سے اظہارِ برائت کیا جائے) تو 1988ء میں پوری دنیا سے انقلابی افراد حج پر گئے، پاکستان سے ڈاکٹر محمد علی نقوی، علامہ فاضل موسوی، اور کچھ اور انقلابی و نظریاتی فکر کے حامل لوگ بھی روانہ ہوئے اور امام کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے استعماری طاقتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، اور "مرگ بر امریکہ و مرگ بر اسرائیل" کے نعرے لگائے۔ یہاں جو بات نہایت قابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ سعودی حکومت نے یہ اقدام اٹھانے والوں کے لئے سزائے موت کا حکم دے رکھا تھا، لیکن اس مجاہدِ حق نے اپنے اس فعل سے ثابت کر دیا کہ:
عشقِ شبیر میں جو لوگ گزر جاتے ہیں
یوں سمجھ لیجئے پردیس سے گھر جاتے ہیں
ہم تو پروانے ہیں شعلوں سے گزر جاتے ہیں
اور کچھ لوگ تو جگنو سے بھی ڈر جاتے ہیں
ڈاکٹر نقوی کو بھی ان کے ساتھیوں کے سمیت پابند سلاسل کر دیا گیا۔ اُدھر پاکستان میں انہی دنوں میں قائد ملت جعفریہ علامہ عارف حسینی کو شہید کر دیا گیا، اور پاکستان میں راولپنڈی لیاقت باغ میں علامہ حسینی کے چہلم پر جب ملت جعفریہ کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے ڈاکٹر نقوی اور ان کے جانثار ساتھیوں کی گرفتاری پر بھرپور احتجاج کیا اور حکومت وقت سے ان کی رہائی کے اقدام کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ اتنا بھرپور تھا کہ وہ مجبور ہو گیا کہ ان کی رہائی کے لئے قدم اٹھائے۔ آپ نے نہ صرف سعودیہ میں بلکہ جب پاکستان میں بھی یہ نعرے بلند کئے تو "سدا بہار" رہنماوں نے مجالس و محافل میں یہ تاثر دیا کہ اس نعرے سے ملت جعفریہ کی مشکلات میں بہت اضافہ ہو گا، ایسے میں اس مردِ مجاہد نے تمام مخالفتوں کا سامنا کیا اور ان نام نہاد لیڈری کا دعوٰی کرنے والوں کے سامنے ڈٹ کر کہا کہ:
خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے کیوں ڈرتے ہو
دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاو گے
اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ ڈاکٹر نقوی جیسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں، ایسے لوگ جو نامساعد حالات کو بدلنے کے لئے نہ صرف غوروفکر کریں بلکہ ان تفکرات کو عملی جامہ بھی پہنائیں، جو نہ صرف اپنے کارکنوں کی قیادت کریں بلکہ خود بھی ایک معمولی کارکن کی طرح کام کریں۔ انہوں نے اپنی ذات، خانوادے کی بقاء پر قوم و ملت کے احیاء اور بقاء کو ترجیح دی اور اپنے ساتھیوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک رہے۔ ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا تھا کہ جو معاشرے کے معمولی سے معمولی واقعات سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنے سامنے آنے والے تمام چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا، آپ فرماتے تھے کہ "انقلاب وسائل سے نہیں آتا بلکہ انقلاب سے وسائل فراہم ہوتے ہیں۔" ڈاکٹر شہید ایسی شخصیت تھے کہ جن کے بارے میں، میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو پاکستان کے لئے خمینی ثابت ہوتے۔ آپ میں ایک مرد مومن اور مجاہد کی تمام خصوصیات موجود تھیں، انکی خوبیوں کو اس مختصر پیرائے میں بیان کرنا گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے، آخر میں صرف یہ کہوِں گی کہ؛
جب ذکر وفاوں کا گلستاں میں چھڑے گا
برسوں تجھے گلشن کی فضا روتی ریے گی
تیرے مقام تیری عظمتوں سے چھوٹے ہیں
اُنہیں ہم سے بچھڑے بیس سال بیت گئے، لیکن اُن کے افکار و نظریات اور عظیم اہداف آج بھی زندہ ہیں۔ شہداء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں، قرآن کریم بھی اس بات کی گواہی دے رہا ہے، ارشاد رب العزت ہے، "فَلا تَحسَبّنَ الذِینَ قُتِلوا فِی سَبِیل اللہِ اَمواتاً بَل اَحیَاء عِندَ رَبّھِم یُرزَقُون"۔ وہ لوگ جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار نے نزدیک رزق ہاتے ہیں۔ شہداء اُس دنیا میں تو زندہ ہیں ہی لیکن بعض شہداء ایسے کام کر گئے کہ اُنکے ان کاموں نے اُنہیں اِس دنیا میں بھی زندہ و جاوید بنا دیا، اور انہی میں ایک نام جو ستارے کی مانند جگمگاتا نظر آتا ہے، وہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا نام ہے۔
دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو لیڈر شپ کے لئے پیدا ہوتے ہیں، ایسے لوگوں میں کچھ تو خدادادی صلاحیتیں ہوتی ہیں اور کچھ وہ اپنے نفس کی تربیت کر کے انہیں مزید جِلا بخشتے ہیں، ایسے لوگ جہاں بھی جائیں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی کا شمار بھی ایسی ہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ کی سادہ، پُرخلوص، دلنشین شخصیت اور خوبصورت و رواں فن بیاں نے جلد ہی آپ کو مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور آپ معاشرے کے آسمان پر خورشید بن کر چمکنے لگے، ایسا خورشید کہ جس کی روشنی سے خلقِ خدا استفادہ کرتی ہو۔ آپ نے آئی ایس او کی صورت میں نوجوانوں اور جوانوں کو ایک بہترین مذہبی پلیٹ فارم فراہم کیا۔
ڈاکٹر شہید ایک نظریاتی و انقلابی فکر کے مالک اور آئمہ اطہار (ع) کے سچے پیروکار تھے۔ عاشقِ خطِ ولایت فقیہ اور امریکہ و اسرائیل کے سرسخت دشمن۔ ہمیشہ گوش بہ فرامین امامِ راحل، 1986ء میں جب امام خمینی نے فرمایا کہ "ہر کس می تواند باید بہ جبھہ برود" (یعنی جو بھی محاذِ جنگ پر جا سکتا ہو وہ ضرور جائے)، تو آپ اپنی تمام مصروفیات، گھربار حتٰی گھروالوں کو اطلاع دیئے بنا سب چھوڑ کر امامِ راحل کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے ایران کے محاذِ جنگ پر جا پہنچے اور وہاں سے تیسرے دن گھروالوں کو اطلاع دی کہ میں ایران کے محاذِ جنگ پر ہوں۔ آپ نے محاذ سے ہی اپنے والد کو جو ان دنوں لندن میں تھے اطلاع دی کہ "والد بزرگوار! میں آپ سے بےحد معذرت خواہ ہوں کہ آتے ہوئے آپ سے اجازت نہ لے سکا، کیونکہ جب امام خمینی کی صدائے استغاثہ میرے کانوں تک پہنچی، اور مجھے اپنی زندگی کی وفا کے بارے میں بھی یقین نہیں تھا، اسلئے کوئی لمحہ ضائع کئے بنا یہاں پہنچ گیا۔ مجھے امید ہے کہ آپ معاف فرمائیں گے، میں آپ سے شہادت کی دعا کا ملتمس ہوں، خدا مجھے ان پاک جوانوں کے ساتھ شہادت نصیب فرمائے"۔ جب ایک قریبی دوست نے آپ کو بتایا کہ آپ کے گھر والے آپ کے لئے خاصے پریشان ہیں، تو آپ نے جواب دیا کہ "میرے گھر والوں سے کہیں کہ میں خریت سے ہوں، یہاں شہادتوں کا ماحول ہے اور کچھ روز قبل ہی امام خمینی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے، ان کی دست بوسی کی ہے۔ میرا جی نہیں چاہتا کہ ایسا روحانی ماحول چھوڑ کر اور شہادت جیسی نعمت سے منہ موڑ کر واپس آوں۔
1987ء میں جب ایرانی حجاج نے مکہ میں " مرگ بر امریکہ و مرگ بر اسرائیل" کے نعرے بلند کئے تو جواب میں سعودی حکومت نے ان کا قتلِ عام کیا۔ اس وقت امام خمینی نے حکم دیا کہ "باید برائت از مشرکین شود"، (یعنی مشرکین سے اظہارِ برائت کیا جائے) تو 1988ء میں پوری دنیا سے انقلابی افراد حج پر گئے، پاکستان سے ڈاکٹر محمد علی نقوی، علامہ فاضل موسوی، اور کچھ اور انقلابی و نظریاتی فکر کے حامل لوگ بھی روانہ ہوئے اور امام کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے استعماری طاقتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، اور "مرگ بر امریکہ و مرگ بر اسرائیل" کے نعرے لگائے۔ یہاں جو بات نہایت قابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ سعودی حکومت نے یہ اقدام اٹھانے والوں کے لئے سزائے موت کا حکم دے رکھا تھا، لیکن اس مجاہدِ حق نے اپنے اس فعل سے ثابت کر دیا کہ:
عشقِ شبیر میں جو لوگ گزر جاتے ہیں
یوں سمجھ لیجئے پردیس سے گھر جاتے ہیں
ہم تو پروانے ہیں شعلوں سے گزر جاتے ہیں
اور کچھ لوگ تو جگنو سے بھی ڈر جاتے ہیں
ڈاکٹر نقوی کو بھی ان کے ساتھیوں کے سمیت پابند سلاسل کر دیا گیا۔ اُدھر پاکستان میں انہی دنوں میں قائد ملت جعفریہ علامہ عارف حسینی کو شہید کر دیا گیا، اور پاکستان میں راولپنڈی لیاقت باغ میں علامہ حسینی کے چہلم پر جب ملت جعفریہ کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے ڈاکٹر نقوی اور ان کے جانثار ساتھیوں کی گرفتاری پر بھرپور احتجاج کیا اور حکومت وقت سے ان کی رہائی کے اقدام کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ اتنا بھرپور تھا کہ وہ مجبور ہو گیا کہ ان کی رہائی کے لئے قدم اٹھائے۔ آپ نے نہ صرف سعودیہ میں بلکہ جب پاکستان میں بھی یہ نعرے بلند کئے تو "سدا بہار" رہنماوں نے مجالس و محافل میں یہ تاثر دیا کہ اس نعرے سے ملت جعفریہ کی مشکلات میں بہت اضافہ ہو گا، ایسے میں اس مردِ مجاہد نے تمام مخالفتوں کا سامنا کیا اور ان نام نہاد لیڈری کا دعوٰی کرنے والوں کے سامنے ڈٹ کر کہا کہ:
خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے کیوں ڈرتے ہو
دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاو گے
اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ ڈاکٹر نقوی جیسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں، ایسے لوگ جو نامساعد حالات کو بدلنے کے لئے نہ صرف غوروفکر کریں بلکہ ان تفکرات کو عملی جامہ بھی پہنائیں، جو نہ صرف اپنے کارکنوں کی قیادت کریں بلکہ خود بھی ایک معمولی کارکن کی طرح کام کریں۔ انہوں نے اپنی ذات، خانوادے کی بقاء پر قوم و ملت کے احیاء اور بقاء کو ترجیح دی اور اپنے ساتھیوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک رہے۔ ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا تھا کہ جو معاشرے کے معمولی سے معمولی واقعات سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنے سامنے آنے والے تمام چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا، آپ فرماتے تھے کہ "انقلاب وسائل سے نہیں آتا بلکہ انقلاب سے وسائل فراہم ہوتے ہیں۔" ڈاکٹر شہید ایسی شخصیت تھے کہ جن کے بارے میں، میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو پاکستان کے لئے خمینی ثابت ہوتے۔ آپ میں ایک مرد مومن اور مجاہد کی تمام خصوصیات موجود تھیں، انکی خوبیوں کو اس مختصر پیرائے میں بیان کرنا گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے، آخر میں صرف یہ کہوِں گی کہ؛
جب ذکر وفاوں کا گلستاں میں چھڑے گا
برسوں تجھے گلشن کی فضا روتی ریے گی

ایک تبصرہ شائع کریں