تحریر: تقی حسن


شیعہ آن لائن: قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ جس نے اپنے اپنا تزکیہ کرلیا وہ کامیاب ہوگیا قرآن مجید کی اس آیت پر عمل پیرا ہوکر شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے اپنے نفس کو اپنے تابع کیا اور دن رات مسلسل ملت کی فکر میں مگن رہے، جہاں شہید کی زندگی کے بہت سے پہلو نوجوان نسل کیلئے قابل تقلید ہیں وہاں ایک پہلو مسلسل جدوجہد اور وقت کی قدردانی کرتے ہوئے اسلام کی خدمت ہے آپ صبح سویرے گھر سے نکلتے اور رات گئے گھر واپس لوٹتے۔ آپ کا سارا وقت رزق حلال کے حصول اور دین اسلام کی خدمت میں صرف ہوتا۔ وقت کے اتنے قدردان تھے کہ ایک پل بھی ضائع نہیں ہونے پاتا حضرت علی (ع) کا فرمان کہ "جو وقت کو برباد کرتا ہے وقت اسے بربادکردیتا ہے" آپکی زندگی کا اصول تھا آپ جوانوں سے بھی یہی توقع کرتے تھے کہ وہ بھی مسلسل جدوجہد جاری رکھیں اس لئے شہید نقوی خود ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے تھے یا تو وہ قومی امور کیلئے متحرک رہتے تھے یا فلاح کیلئے فکرمند۔۔ آپ ملازم پیشہ نوجوانوں سے اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں آٹھ گھنٹے راہ خدا میں ضرور استعمال کریں۔ شہید فرماتے تھے کہ ضروری نہیں کہ دو گھنٹے جلسے جلوس، میٹنگ یا دروس میں صرف ہوں بلکہ ان دوگھنٹوں میں دین شناسی کیلئے مطالعہ کرلینا بھی وقت کا بہترین مصرف ہے۔ شہید کی روح آج بھی یہی تقاضہ کرتی ہے کہ وقت کو ضائع کئے بغیر اپنے اہداف کے حصول کیلئے مصروف عمل رہا جائے، جہد مسلسل پر تنظیمی دوستوں سے کہتے تھکاوٹ کا تعلق اپنی ذات سے ہوتا ہے جبکہ ہمارا سفر خدا کیلئے ہے تو پھر تھکاوٹ کیسی۔۔؟ 

ملت کیلئے ہمشہ فکر مند رہنے والے محمد علی نے ملک گیر تحریک چلائی جس کے نتیجہ میں امامیہ ڈاکٹرز، امامیہ انجیئرز، امامیہ وکلاء، امامیہ ٹیچرز، امامیہ ایمپلائز ویلفیئر آرگنازیشن اور امامیہ کسان جیسے پلیٹ فارمز تشکیل پائے۔ آپ کا معمول تھا کہ چھٹی کا روز لاہور سے باہر تنظیمی مصروفیات میں گزارتے۔ راتوں کو بسوں میں سفر کرتے اور دن نوجوانوں میں گزارتے۔ طویل سفر کے باوجود چہرے پر تھکاوٹ کے آثار ہوتے نہ آنکھوں میں خمار۔ جب کبھی تھک جاتے تو سر کے نیچے بازو رکھ کر یا بسا اوقات اپنے پنجہ میں پنجہ ڈال کر دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھتے اور تھوڑی دیر آنکھیں بند کرنے سے آپکی تھکاوٹ دور ہوجاتی۔ رات گئے تنظیمی اجلاسوں میں مصروف رہتے مگر کبھی فجر کی نماز قضاء نا ہوتی۔ رات گئے جب گھر لوٹتے تو فون پر تنظیمی افراد آپ سے رابطہ کرتے مگر کبھی نہ تو فون بند کیا نا ہی گفتگو کرنے والے سے خلل کا شکوہ۔ دوست احباب آپ سے آرام کرنے کی گزارش کرتے تو فرماتے۔ "آرام صرف ایک دن کیلئے موت کے روز ملے گا مگر دوسرے روز دفن کے بعد سوال و جواب اور دوسرے مرحلے شروع ہو جائیں گے"۔ شاید آپ کہنا چاہتے تھے کہ آپ سو گئے تو جاگے گا کون۔۔؟ 

وقت کی قدردانی اور اسلام کی خدمت کے تسلسل کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ آپ زندگی کے چند روز بھی خرید کر لائے ہیں۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ "اگر انسان کی جیب سے کچھ رقم وغیرہ گر یا کٹ جائے تو افسردہ رہتا ہے لیکن ہماری زندگی سے چوبیس گھنٹے نکل جائیں تو ہم اس کا احساس ہی نہیں کرتے"۔ آپ نے اپنی تنظیمی زندگی میں جتنے بھی نظریاتی افراد کی تربیت کی وہ آج بھی امور میں متحرک ہیں ان سے متصل ہر ایک فرد آج بھی متحرک ہے اسلئے انکی فکر اس قوم کیلئے اتحاد کا مرکز بن سکتی ہے۔ شہید نقوی کے تحرک کو دیکھتے ہوئے احباب انکو مٹی کا نہیں لوہے کا بنا ہوا انسان سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انکے اخلاص و سعی کے نتیجے میں شجرہ طیبہ لاہور سے نکل کر پورے ملک میں پھیلی اور آج بھی انکا بویا ہوا بیج سایہ دار شجر کی شکل میں ملک بھر میں ہزاروں نوجوانوں کی تربیت کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ 

آہ! 7 مارچ کہ جب موت ایک انتھک مبارز سے تھک گئی محمد علی نقوی نے موت کو شکست فاش دیتے ہوئے شہادت کو گلے لگا کراپنی مصروف زندگی کو آئندہ نسل کیلئے ایک نظریہ کے طور پر زندہ کر دیا۔ نئی نسلیں انکی زندگی سے مستفید ہوتی رہیں گی۔ نہ تھکنے والا ایک جسم جو اس دنیا میں ظاہری طور پر مجسم نہ ہونے کے باوجود کئی لوگوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ اپنے ساتھیوں کے جذبات کو کبھی ماند نہ پڑنے دے گا۔ وہ مرد مجاہد اپنی نظریاتی فوج کی ہمیشہ سپہ سالاری کرتا رہے گا۔ شہید ڈاکٹر نقوی راہ حق پر گامزن قافلوں اور انکی رگوں میں گردش کرنے والے گرم خون کی حدت کی صورت میں ہمیشہ موجود رہیں گے۔ وہ انتھک مبارز آج بھی زندہ و تابندہ ہے سفیر انقلاب کی زندگی آئمہ کرام (ع) کی زندگی کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ ان کی زندگی میں موجود جن لوگوں سے بھی واسطہ پڑا وہ آج بھی آپ کے فراق میں روتے ہوئے یہی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ 
تری خوشبو نہیں ملتی، تیرا لہجہ نہیں ملتا 
ہمیں تو شہر میں کوئی، تیرے جیسا نہیں ملتا

ایک تبصرہ شائع کریں

 
Top