شیعہ آن لائن: فرانس کے ایک 13 سالہ لڑکے کے بارے
میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ داعش کی طرف سے لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والوں میں سے کم
عمرترین جنگجو تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسٹراسبورگ کا ابوبکرالفرانسی شامی فوج کے
حملے میں حمص کی سرحد پر ہلاک ہوا۔ ایک فرانسیسی صحافی ڈیوڈتھامسن کا کہنا ہے کہ
ابوبکرالفرانسی اپنے خاندان کے ساتھ شام آیا تھا اور 2 ماہ قبل مارا گیا۔ 2
بھائیوں سمیت اس کا گھرانا پہلے ہی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ فرانس
کے وزیر اعظم مینول والس نے کہہ چکے ہیں کہ اس وقت داعش کی صفوں میں شامل ہو کر
عراق اور شام میں لڑنے والے جہادیوں میں کم از کم 3000 افراد یورپی شہری ہیں، ایک
فرانسیسی اخبار کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ یورپ سے لوگ داعش کے
ساتھ وابستہ ہونے کیلیے جا رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ رواں سال کے آخر تک جہادیوں
میں یورپی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہزار ہو جائے گی۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

ایک تبصرہ شائع کریں