تحریر: عرفان علی
فروری 2015ء میں امریکا کے طاقتور قانون ساز ادارے کانگریس میں 3 موضوعات پر کھلی سماعت کے ساتھ ساتھ بند سماعتیں بھی ہوئیں۔ کانگریس کی فیصلہ ساز کمیٹیوں میں پاکستان کا ایک مشکوک کردار بیان کیا گیا۔ 12 فروری 2015ء کوافغانستان کے بارے میں سماعت میں افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے سربراہ جنرل جون ایف کیمبیل کا کہنا یہ تھا کہ وہاں طالبان 2014ء میں کسی بڑے اسٹراٹیجک اور آپریشنل ہدف کو حاصل نہیں کرسکے، وہ کمزور ہوچکے ہیں لیکن انہیں شکست نہیں ہوئی، نئے یا نوجوان طالبان کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کی سینیئر قیادت یعنی تجربہ کار پرانے طالبان پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں میں رہتے ہیں۔ حسن اتفاق ہے کہ اس کے ٹھیک ایک ہفتے بعد طالبان کی مذاکراتی ٹیم قطر پہنچی جو اس جنگ میں امریکی اتحادی تھا اور ہے۔ طالبان پاکستان کو امریکی ایجنٹ اور امریکا پاکستان کو طالبان کا محفوظ ٹھکانہ کہتا ہے۔ اب طالبان، امریکا اور قطر تینوں مشاورت کرکے بتائیں وہ خود آپس میں کیا ہیں۔؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں پاکستان نے اپنے ہر عمل سے خود کو امریکا اور طالبان کا اتحادی ثابت کیا کیونکہ طالبان بھی انہی کی ایجاد تھے، لیکن امریکا اور طالبان نے اپنے عمل سے شاذ و نادر ہی خود کو پاکستان کا قابل اعتماد اتحادی ثابت کیا ہے۔ نیٹو اور دیگر اتحادیوں کی بڑی تعداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کی قیادت میں افغانستان میں آکر لڑی اور بعض نے اپنے ممالک کی سرزمین، بحری حدود اور فضا کو امریکا کے لئے کھول دیا۔ لیکن نہ تو سعودی عرب، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات و بحرین میں اس طرح بڑے پیمانے پر دہشت گردی ہوئی جتنی پاکستان میں ہوئی اور نہ ہی امریکا یا یورپ میں نائن الیون کے بعد کوئی بڑا واقعہ رونما ہوا۔ یعنی امریکا اور دہشت گرد دونوں ہی پاکستان کے خلاف اتحادی ہیں۔
خیر! آگے بڑھتے ہیں۔ عالمگیر خطرات کی تشخیص کے عنوان سے امریکی کانگریس میں 24 فروری کو بند کمرہ سماعت ہوئی جبکہ اسی موضوع پر 26 فروری کو کھلی سماعت ہوئی۔ امریکا کے سارے انٹیلی جنس اداروں پر مشتمل نیشنل انٹیلی جنس نامی ادارے کے سربراہ جیمز کلیپر اور محکمہ دفاع (جسے پینٹاگون بھی کہتے ہیں) کے تحت کام کرنے والی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ لیٖفٹننٹ جنرل ونسنٹ اسٹیورٹ نے خطرات کے بارے میں اپنی یا اپنے اداروں کی تیار کردہ تشخیصی رپورٹ سے متعلق بریفنگ دی۔ جنرل ونسنٹ اسٹیورٹ کے مطابق القاعدہ کی مرکزی قیادت پاکستان میں ہے۔ یہاں سے وہ یمن، صومالیہ، شمالی افریقہ، شام اور جنوبی ایشیاء میں القاعدہ سے منسلک و ملحق گروہوں کی وفاداریوں کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کے بارے میں کہتے ہیں کہ فوجی آپریشن کے باوجود پاکستان کی سلامتی کو مسلح و متشدد فرقہ پرست اور علیحدگی پسند دہشت گروہوں سے اندرونی خطرات لاحق ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ داعش یا ISIL کا اثر و نفوذ اور پروپیگنڈا بھی پاکستان کے لئے پریشانی کا باعث رہیں گے۔
پاکستان اور بھارت کے بارے میں اور اس خطے میں چین اور پاکستان کے خلاف بھارت کی ’’دفاعی‘‘ حکمت عملی کے بارے میں بھی چند نکات بیان کئے گئے ہیں۔ اپنے ہتھیاروں کے بارے میں یقین حاصل کرنے کے لئے کہ وہ قابل بھروسہ اور مطلوبہ صلاحیت کے حامل ہیں یا نہیں، بھارت وقتاً فوقتاً نیوکلیئر صلاحیت کے حامل میزائلوں کے تجربات جاری رکھے ہوئے ہے۔ بین البراعظمی میزائل اور اگنی چھ کو مزید بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ آبدوزوں کے ذریعے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل پر بھی کام کر رہا ہے۔ بقول امریکی جنرل ونسنٹ کے بھارت، چین اور پاکستان کے خلاف دفاع کو مضبوط کر رہا ہے۔
امریکا کو خلائی شعبے میں روس اور چین کا کردار مشکوک نظر آرہا ہے، جبکہ غیر ملکی انٹیلی جنس خطرات میں روس اور چین کے ساتھ ساتھ کیوبا کی انٹیلی جنس سروسز بھی اس کے لئے چیلنج ہیں۔ سائبر جنگ میں بھی امریکا کو خطرات نظر آرہے ہیں کہ کوئی بھی امریکا کے نجی و حکومتی اداروں کی ویب سائٹس یا کمپیوٹرائزڈ نظام کو جام کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور محاذ نیوکلیئر ہتھیاروں کا ہے۔ 25 فروری کو علاقائی نیوکلیئر حرکیات کے موضوع پر کانگریس میں ان امور کے ماہرین نے اپنی رائے پیش کی۔ کارنیگی اینڈوومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے نائب صدر ڈاکٹر جارج پرکووچ نے دو مثلث کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک روس، چین اور امریکا کی ہے اور یہ تینوں نیوکلیئر شعبے میں ایک دوسرے سے مقابلے میں مصروف ہیں۔ دوسری مثلث چین، پاکستان اور بھارت کی ہے۔ اس مثلث میں چین اور پاکستان نیوکلیئر شعبے میں دوستانہ اور اسٹرٹیجک تعلقات کے حامل ہیں جبکہ بھارت ان دونوں سے مقابلے میں مصروف ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک خط مستقیم امریکا اور بھارت کے نیوکلیئر تعلقات کو دوستانہ اور تزویراتی قرار دیتا ہے۔
یہ ہے وہ حقیقت جس کا پاکستان کو سامنا کرنا ہے۔ دنیا کی سیاست کا نقشہ امریکا ترتیب دیتا ہے اور اقوام متحدہ کے ذریعے یا بعض بڑے چھوٹے اتحادی ممالک کے ذریعے اس نقشے میں حقیقت کا رنگ بھرتا ہے۔ تشخیصی رپورٹس میں اور ان کھلے اور بند کمرہ اجلاسوں میں امریکا نے خود کو بھارت کا اور پاکستان و چین کو ایک دوسرے کا دوست ظاہر کرکے اس خطے کا امریکی نقشہ بیان کر دیا ہے۔ ابھی جیمز کلیپر کی تشخیصی رپورٹ باقی ہے۔ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو براہ راست خطرہ اور خطے میں عدم استحکام کا ذریعہ تصور کرتا ہے۔ بھارت افغانستان میں استحکام اور وہاں اپنی موجودگی چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے دشمن اور مخالف دہشت گرد گروہ افغانستان میں محفوظ ٹھکانے بنالیں اور وہ پاکستان کے زیر اثر گروہوں کی دھار کو کند کرنا چاہتا ہے۔ جیمز کلیپر کی رپورٹ کہتی ہے کہ لشکر طیبہ کو محفوظ ٹھکانے دینے کی پالیسی اس کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں غصہ دلانے والے عنصر کے طور پر دیکھی جائے گی۔
جارج پرکووچ نے جو منظرنامہ بیان کیا، اس میں سے ایک ممکنہ منظر نامہ یہ ہے کہ بھارت پر اگر کوئی بڑا حملہ ہوا، جس کا منبع پاکستان میں ہو تو بھارت جواباً بڑی فوجی کارروئی کرسکتا ہے اور بھارتی حملے کے جواب میں پاکستان نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے پر مائل ہوگا جبکہ بھارت پہلے ہی اعلان کرچکا ہے کہ اس کی سرزمین یا فوج کے خلاف نیوکلیئر ہتھیار کے استعمال کا بھرپور جواب دے گا۔ ان کے خیال میں پاکستان اور بھارت کے پالیسی میکرز کے لئے یہ بڑا چیلنج ہے اور باوجود اس حقیقت کے کہ دونوں ملکوں کی فیصلہ ساز شخصیات اسے کم اہمیت دیتے ہیں، امریکی حکومت کو اس خطرے سے خبردار رہنا ہوگا۔ نیوکلیئر حرکیات میں جاپان اور چین کا بھی تذکرہ شامل ہے۔ روس، شمالی کوریا وغیرہ کا ذکر بھی گیا ہے۔
امریکی صدر باراک اوبامہ اور بھارتی وزیراعظم کے مابین دوستانہ گہرا ہوتا جا رہا ہے اور بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر امریکی صدر بنفس نفیس ان کی پشت پر تھپکی لگانے آئے تھے۔ بھارت کا ’’دفاع‘‘ چین اور پاکستان سے لاحق ’’خطرات‘‘ کے خلاف ہے اور امریکی حکومت بھارت کے ساتھ ہے۔ امریکا نے ایران کو مشرق وسطٰی میں اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ پاکستان اس وقت روس کے ساتھ بھی تعلقات بہتر کرنے کی راہ پر گامزن ہے جبکہ روس سے پاکستان کی سرحد بھی نہیں ملتی۔ چین کے ساتھ زمینی سرحد ملتی ہے لیکن سمندری سرحد اس کے ساتھ بھی نہیں ملتی۔ ایران اس خطے کا واحد ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کی زمینی اور سمندری سرحدیں ملتی ہیں۔ اس لئے ایران کی اہمیت پاکستان کی دفاعی ڈاکٹرائن میں چین سے زیادہ ہونی چاہئے تھی، لیکن اگر ہمالیہ سے اونچی، سمندر سے گہری، شہد سے زیادہ میٹھی چینی دوستی سے زیادہ گہری دوستی نہیں کی جاسکتی تو کم از کم اتنی ہی شدت والی دوستی ضرور ہونی چاہئے۔ پاکستان، چین، روس اور ایران، ایک چار ملکی اتحاد اسٹرٹیجک اتحادی یعنی PRIC قائم کرسکتا ہے اور اس طرح اقوام متحدہ کے دو ویٹو پاورز اور عالم اسلام کے دو اہم ملکوں کی طاقت یکجا ہوگی تو خطرات سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔
پاکستان کی پہلی ترجیح خود انحصاری اور خود کفالت والی پالیسی ہونی چاہئے اور اس کے بعد جن شعبوں میں ہمیں معاونت اور مدد درکار ہے، ان میں پڑوسی ممالک کو فوقیت دی جانی چاہئے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کی تلخی کی معقول وجوہات ہونے کے باوجود پاکستانی اتنے پاگل نہیں ہیں کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی پالیسی پر عمل کریں۔ یہ دوڑ بھارت کی شروع کردہ ہے اور اسے امریکی پشت پناہی حاصل تھی۔ پاکستان نے اسے دشمن کو حملے سے باز رکھنے کے لئے ردعمل کے طور پر تیار کیا ہے۔ پاکستان کی مقتدر شخصیات صرف لائن آف کنٹرول کی کشیدگی کو دیکھ رہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں نریندر سنگھ کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہوچکی ہے۔ گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کروانے والے مودی کا مقبوضہ کشمیر کے اقتدار پر قبضہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ہمیں کشمیر کے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے اس کی منطقی وجوہات، قانونی پہلوؤں اور اخلاقیات کی بنیاد پر مضبوط مقدمہ تیار کرنا ہوگا۔ نوجوان نسل کو معلوم ہونا چاہئے کہ 80 فیصد مسلم آبادی پر مشتمل کشمیر پر بھارتی تسلط غیر جمہوری و غیر اخلاقی تھا اور آج تک یہ غیر قانونی بھی ہے۔
امریکا کی تشخیصی رپورٹس اور نقشے بازیاں یونہی نہیں ہوتیں، یقیناً اس کے پس پردہ کئی اہداف ہوتے ہیں۔ ہمیں ان کی بیان کردہ حرکیات اور تشخیص سے زیادہ ان محرکات اور امراض کے علاج پر توجہ دینی چاہئیں جو دشمنوں کے پیدا کردہ ہیں۔ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کرنے والوں کی اصلی تربیت امریکا اور اس کے اتحادیوں ہی نے کی تھی۔ زبانی کلامی جنگ داعش، القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑی جا رہی ہے جبکہ عملی جنگ اسلام و مسلمین کے خلاف، جس کے تحت توہین رسالت کرکے اس کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں دہشت گردوں کے خاتمے کی جنگ شروع کرنے والا امریکا لاکھوں مسلمانوں کو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں مار کر اب شام اور دیگر ممالک میں اپنے ایجاد کردہ دہشت گردوں سے مروا رہا ہے۔ کھانے اور اسلحے کو امریکی فضائیہ اور اس کے اتحادی حتٰی کہ اقوام متحدہ کے امدادی پیکٹس بھی داعش اور القاعدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں میں پہنچ رہے ہیں۔
11 اکتوبر 2001ء کو جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین کا سہیل وڑائچ کو دیا گیا انٹرویو شایع ہوا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان نے مغربی ممالک اور امریکا کے کہنے پر طالبان کو بنایا اور پروموٹ کیا۔ دیوبندی بزرگان پر لازم ہے کہ اب اپنا قبلہ درست فرمالیں۔ بڑھکیں بہت مار چکے، امریکا کی کوئی سازش ناکام نہیں کرسکے، نہ ٹھیک سے لڑسکے، نہ ٹھیک سے بچ سکے۔ اب اگر پاکستان کی افواج نے ملک کو طالبان اور دیگر تکفیری دہشت گردوں سے نجات دلانے کا عمل شروع کیا ہے تو اس قومی منصوبہ عمل کے مقابلے میں پھر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد تعمیر کرنے سے گریز کریں۔ امریکا کے پٹھو جنرل ضیاء کو اقتدار میں لانے کے لئے پاکستان قومی اتحاد بنانے والے اب اس ماضی کو دفن کرکے امریکا کی سامراجیت کے عملی مخالفین کی مانیں اور حقیقی قومی اتحاد کو فروغ دیں۔ قومی منصوبہ عمل پاکستان کو لاحق اندرونی خطرات کے خلاف تشخیصی رپورٹ بھی ہے اور علاج بھی۔

ایک تبصرہ شائع کریں