تحریر: سید اسد عباس تقوی
خوابوں کی دو بڑی قسمیں ہیں، ایک وہ خواب جو نیند کی حالت میں دیکھے جاتے ہیں اور ایک وہ خواب جو انسان بیداری کی حالت میں شعور کے ساتھ، حالات کا ادراک رکھتے ہوئے دیکھتا ہے۔ سیانوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ خواب نہیں دیکھ سکتے وہ بڑے کام نہیں کرسکتے۔ ان خوابوں کا تعلق خواب کی دوسری قسم یعنی بیداری کی حالت میں دیکھے گئے خوابوں سے ہے۔ اگر کوئی انسان بڑے خواب دیکھے بغیر ترقی نہیں کرسکتا تو اقوام کیسے بغیر خوابوں کے دنیا میں سربلند ہوسکتی ہوں گی؟ دنیا میں ترقی کا ہر سفر خواب سے ہی شروع ہوتا ہے۔ بیداری کے خواب شعور کی پختگی کی علامت ہیں، بعض لوگ شاید اسے خام خیالی سمجھیں، لیکن حقیقت پرستوں کو کیا معلوم کہ خواب انمول ہوتے ہیں۔ شاعر جسے معاشرے کی آنکھ بھی کہا جاتا ہے، خوابوں کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ معروف شاعر ساحر لدھیانوی نے انہی انمول خوابوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنی نظم ’’آو کہ کوئی خواب بنیں‘‘ میں کہا:
آؤ کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطے
ورنہ یہ رات آج کے سنگین دور کی
ڈس لے گی جان و دل کو کچھ ایسے کہ جان و دل
تاعمر پھر نہ کوئی حسین خواب بن سکیں
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کو ہم مصور پاکستان ایسے ہی ایک خواب کی وجہ سے کہتے ہیں۔ انہوں نے برصغیر پاک و ہند میں ایک اسلامی ریاست کا خواب دیکھا۔ اس سے قبل جاری تحریک کے راہنماؤں کے سامنے اسلامیان ہند کے مسائل کا کوئی ایسا حل نہ تھا، جو مستقبل کے خطرات کو مکمل طور پر ختم کرسکے۔ اقبال کے خواب سے قبل کی تحریک میری نظر میں ردعمل کی تحریک تھی، وقت کی صراحی سے کوئی حادثہ ٹپکتا تو مسلمان اس حادثے کے اثرات کو کم کرنے کے لئے مصروف عمل ہوجاتے۔ حقوق کا تحفظ اور مفادات کا بچاؤ اسلامیان ہند کی ترجیح تھی۔ علی گڑھ یونیورسٹی بھی اسی فکر کے مدنظر معرض وجود میں آئی، علی گڑھ بنانے والوں کے ذہن میں دو قومی نظریہ تو تھا لیکن اس کی عملی صورت یعنی الگ ریاست کا خواب نہ تھا۔ یہ ایک جنگ تھی جو مسلسل جاری تھی۔1857ء کی جنگ آزادی سے لے کر 1936ء تک مسلمان اپنے مفادات اور حقوق کے لئے برسر پیکار رہے۔
مفکر پاکستان نے اس جنگ کو ایک مقصد دیا اور اپنے تصور کے ذریعے اسلامیان ہند کے لئے ایک ایسی ریاست کے خدوخال واضح کئے، جو ان کے تمام تر مسائل کا مستقل حل تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کیا ہے جسے حاصل کرکے ہم اپنے بہت سے مسائل، مشکلات اور مستقبل کے خطرات سے بچ سکتے ہیں۔ یہ تصور اقبال، قائدین اسلامیان ہند و عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ راہنما کو راہ مل گئی اور راہ رو کو منزل۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے اس خواب کو عملی شکل دینے کے لئے دن رات ایک کر دیئے۔ ان ہستیوں کی ان تھک محنت اور لگن نے ایک روز شاعر مشرق کے خواب کو حقیقت کا روپ بخشا۔ آج وطن عزیز پاکستان علامہ محمد اقبال کے اسی خواب کی تعبیر تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہم اس خواب کو اس کی حقیقی روح کے مطابق تعبیر نہ دے سکے اور نہ ہی ہم نے اس کے وجود کو باقی رکھنے کے لئے کوئی تگ و دو کی، جس میں یقیناً خواب دیکھنے والے کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بہرحال ادھورا ہی سہی آج ہمارے پاس ایک پاک وطن ہے، ایک پاک سرزمین ہے، جس کے باسی اگر چاہیں تو اس سرزمین کو اپنی آرزؤں اور منشاء کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں کی مانند نہیں ہیں، جنہیں اپنے مستقبل پر کچھ اختیار نہیں۔ ہم فلسطین کی مانند بھی نہیں ہیں، جن کا نہ آج اپنا ہے اور نہ کل کا کوئی یقین۔ ہم داخلی اور خارجی لحاظ سے بہت بہتر حالت میں ہیں، تاہم اس حالت کو مزید بہتر بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ ابھی قائد اعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ دنیا میں ایک باعزت اور باوقار قوم کی مانند اپنا لوہا منوا سکے۔ ہمارے کچھ بزگوں نے امت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے بھی خواب دیکھے، آج بھی خواب گری کا یہ عمل جاری ہے، علامہ اقبال بھی امت کی سربلندی اور نشاۃ ثانیہ کے خواب دیکھا کرتے تھے، تاہم ہمیں آج تک وہ خواب میسر نہیں آسکا جو امت کی اکثریت کی نیندیں چرا لے اور ان میں عزت و وقار حاصل کرنے کی تڑپ بیدار کرسکے۔ شاید خواب دیکھنے کا کوئی خاص لمحہ ہوتا ہو، جب دیکھے گئے خواب میں حقیقت کا روپ بھرنا آسان ہوتا ہو۔
قارئین کرام!
آئیں ہم بھی اپنے کل کو سنوارنے کے لئے خواب بنیں، اس سے پہلے کہ سنگین دور کی یہ رات ہمارے دل و جان کو یوں ڈس لے کہ ہم خواب بننے کی صلاحیت سے ہی محروم ہوجائیں۔ بیداری، شعور اور آگہی کے خواب، کیونکہ جب تک کوئی قوم خواب نہیں دیکھتی، اس میں تعمیر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ تعبیر کی خواہش جنم نہیں لیتی۔ آئیں اپنی عزت و سربلندی کا خواب دیکھیں، ایسی عزت اور سربلندی جس کے بعد کوئی پستی اور ذلت ہمیں نہ چھو سکے۔ ایسی عزت و سربلندی، جس کے حصول کے بعد ہم اقوام عالم میں سر فخر سے بلند کرکے، سینہ تان کر دعویٰ کرسکیں کہ ہم بانجھ قوم نہیں ہیں۔ ہماری دھرتی بھی ایسے فرزند پیدا کرسکتی ہے جو انسانیت کا جھومر اور کائنات کے مستضعفین کا سہارا ہیں۔ ایسی عزت اور سربلندی، جس میں قوم کا ہر فرد اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ ملت کی ترقی اور عروج میں حصہ دار بن سکے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ہی ایک شعر پر اپنی بات کو ختم کروں گا۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

ایک تبصرہ شائع کریں